آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نہا بورا اور جنتر منتر پر موجود دیگر مظاہرین۔ (فوٹو: پی ٹی آئی/کرما بھوٹیا)
ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کر رہے شہری سنیچر کو لگاتار دوسرے دن دہلی کے جنتر منتر پہنچے۔ سنیچرکو جنتر منتر پر مظاہرین کے مقابلے میں سکیورٹی فورسز کی تعداد زیادہ نظر آئی۔
نئی دہلی: اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)کے تحت ووٹر لسٹ میں کی جا رہی ترمیم اور الیکشن کمیشن کے کام کاج کے خلاف احتجاج کر رہے شہری سنیچر (3 اکتوبر) کو لگاتار دوسرے دن دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے پہنچے۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی)گیانیش کمار کو ’غدار‘ بتاتے ہوئے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
वरिष्ठ वकील कपिल सिब्बल, प्रशांत भूषण, अविक साहा समेत कई वकील साथियों और युवाओं के साथ जंतर-मंतर की ओर बढ़ रहे हैं।
जंतर-मंतर पर शांतिपूर्ण विरोध लोकतंत्र में हमारा अधिकार है। पुलिस के दम पर यह अधिकार हमसे नहीं छीना जा सकता।#JantarMantarSatyagraha pic.twitter.com/O5690Hqu1U
— Yogendra Yadav (@_YogendraYadav) October 3, 2026
سنیچر کی دوپہر دہلی کے جنتر منتر روڈ سے پولیس نے مظاہرین کو حراست میں لینا شروع کر دیا۔ ایک دن پہلے بھی ہزاروں لوگ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے یہاں جمع ہوئے تھے۔ حراست میں لیے گئے لوگوں میں طلبہ کارکن نہا بورا، انتخابی تجزیہ کار اور کارکن یوگیندر یادو اور سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن شامل تھے۔ سینئر وکیل کپل سبل بھی سنیچرکے احتجاج میں شامل ہوئے۔

جنتر منتر پر سنیچر کومظاہرین کے مقابلے میں سکیورٹی فورسز کی تعداد زیادہ نظر آئی۔ دوپہر تک احتجاجی مقام پر بھیڑ نسبتاً کم رہی۔
جمعہ (2 اکتوبر) کی طرح ہی جنتر منتر کی جانب جانے والی سڑکوں پر بھی بھاری بیریکیڈنگ کی گئی تھی۔ تاہم، حکام نے سنیچر کو احتجاجی مقام کے آس پاس کے میٹرو اسٹیشن بند نہیں کیے اور نہ ہی موبائل انٹرنیٹ سروس پر پابندی لگائی۔
کچھ پولیس اہلکاروں کی مظاہرین کے ساتھ دھکامکی بھی ہوئی۔ ان میں خواتین مظاہرین کے ساتھ دھکامکی کرنے والوں میں کچھ مرد پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
آرٹی آئی کارکن انجلی بھاردواج نے بتایا کہ انہیں اور دیگر خواتین کو دہلی پولیس کی ایک بس میں حراست میں لیا گیا، جس میں کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔ خواتین کے احتجاج کے بعد پولیس نے راستے میں خواتین مظاہرین کو بس سے اترنے کی اجازت دے دی۔
اس دوران راشٹریہ مانوادھیکار نیوز سے وابستہ صحافی عمران ولی کو بھی حراست میں لیا گیا۔
موقع پر موجود دی وائر کی نامہ نگار انترا بروآ کے مطابق، دوپہر تقریباً 2 بجے پولیس نے ان لوگوں کو بھی حراست میں لے لیا جو نہ نعرے لگا رہے تھے اور نہ ہی ان کے ہاتھوں میں کوئی پوسٹر یا تختی تھی۔ پولیس نے انہیں ایک بس میں بٹھایا، جو بعد میں وہاں سے چلی گئی۔ کچھ مرد پولیس اہلکاروں کو خواتین مظاہرین کو دھکا دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
معلوم ہو کہ گزشتہ ہفتے انڈین ایکسپریس کی ایک اہم پڑتال میں ایس آئی آر کے معاملے میں الیکشن کمیشن کی اعلیٰ سطح پر مبینہ بدنظمی کا انکشاف ہونے کے بعد کمیشن، خصوصی طور پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے۔
گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر احتجاج کے دوسرے دن مظاہرین نے ’گیانیش کمار غدار ہے‘، ’گیانیش کمار استعفیٰ دو‘اور ’جب جب مودی ڈرتا ہے، پولیس کو آگے کرتا ہے‘جیسے نعرے لگائے۔
دریں اثنا، جنتر منتر کے علاوہ جمعہ کو ممبئی کے شیواجی پارک اور ہندوستان کے کئی دیگر شہروں میں بھی احتجاج ہوئے تھے۔
آئی ٹی بی پی اور پیلٹ گن سے لیس آر اے ایف کے جوان تعینات
جنتر منتر پر موجود دی وائر کی رپورٹر انترا بروآ نے بتایا کہ وہاں تعینات سکیورٹی فورسز میں فساداتکنٹرول کرنے کے لیے تعینات ریپڈ ایکشن فورس(آر اے ایف)کے جوان بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ جوانوں کے پاس پیلٹ گن اور آنسو گیس کے گولے تھے۔

پیلٹ گن بےحد حساس طریقے سے اثر کرنے والا ہتھیار ہے۔ اس سے چھروں کی بوچھاڑ نکلتی ہے، جو نشانہ بنائے گئے شخص کے علاوہ آس پاس موجود لوگوں کو بھی لگ سکتی ہے اور ان کی آنکھوں کی روشنی تک جا سکتی ہے۔
سی جے پی کی قیادت میں ہوئے مظاہروں کے دوران 20 جولائی کو جنتر منتر سے پارلیامنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے مظاہرین پر آر اے ایف کے اہلکاروں نے پیلٹ گن سے فائرنگ کی تھی۔ اس میں کم از کم 10 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ زخمی لوگوں میں 19 سالہ ساحل بھی شامل تھے، جن کی دائیں آنکھ کی روشنی جانے کا خدشہ ہے۔
سنیچر کی دوپہر ہندوستان-تبت سرحدی پولیس(آئی ٹی وی پی)کے جوان بھی جنتر منتر پر تعینات تھے۔

