حکومت سے مذاکرات میں ’ڈیڈلاک‘: پی ٹی آئی لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج شروع ہوگا

398882 531502025


پاکستان تحریک انصاف وفاقی حکومت سے مذاکرات میں ناکامی کے بعد اتوار کو اپنے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہفتہ تین اکتوبر کی شب لانگ مارچ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سمیت دیگر سیاسی معاملات سے متعلق مذاکرات کے دوران مذاکراتی ٹیموں کے درمیان ’انسدادِ دہشت گردی اور وفاق سے تعاون کے نکات‘ پر اتفاقِ رائے نہ ہونے پر مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔

پی ٹی آئی نے راول پنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے 27 ستمبر کو ہونے والا مارچ چار اکتوبر تک مؤخر کر دیا تھا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اس ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر سکیورٹی سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ خیبر پختونخوا سے اسلام آباد جانے والے اہم راستے بھی بند کر دیے تھے۔

پی ٹی آئی لانگ مارچ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں مکمل پلان بھی شیئر کیا ہے۔

ہفتے اور اتوار درمیانی شب جاری کیے گئے اس پلان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اتوار کو گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کرنے جا رہی ہے۔

سہیل آفریدی کے مطابق ’اتوار، 4 اکتوبر دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ’رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ ڈالے گا اور پانچ اکتوبر دن 12 بجے کرک کے عوام ہمیں جوائن کریں گے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے۔‘

سہیل آفریدی کے مطابق یہ قافلہ سات اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے روانہ ہو گا ’پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہوں گے جہاں آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔‘

دوسری جانب حکام نے دارالحکومت اسلام آباد میں تین ہزار پیرا ملٹری رینجرز کی تعیناتی 15 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ یہ بات ہفتے کو سامنے آنے والے سرکاری دستاویزات سے پتہ چلی۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی سے طویل مذاکرات کے بعد ہفتے کی شب کہا تھا کہ ’لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ کسی قسم کے انتشار کی کوشش کو قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔‘

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ ’بنیادی بات امن وامان اور دہشت گردی کے حوالے سے کے پی کے حالات ہیں۔

’وفاق کا موقف ہے صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے میں اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ بات ہمیں قبول نہیں ہے۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ