سہیل آفریدی مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار، لانگ مارچ سے سختی سے نمٹیں گے: وزیر داخلہ

291181 939719740


وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کی ناکامی کی پوری ذمہ داری وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر ڈالتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب بڑھنے والے لانگ مارچ سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مذاکرات کرنے والی پی ٹی آئی ٹیم کو سراہا اور کہا کہ معاہدہ 99 فیصد طے پا چکا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کا صرف ایک شخص ذمہ دار ہے اور وہ سہیل آفریدی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ لانگ مارچ میں شامل سیاسی لیڈروں اور دوسرے لوگوں کے خلاف توہین عدالت کے تحت کارروائی کی جائے گی اور اسلام آباد کی جانب آنے والے جتھے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ اگر لانگ مارچ کے دوران ایک بھی جان گئی تو اس کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر ہو گی۔

اس سے قبل وزیر داخلہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے جس تحریری معاہدے پر دستخط اور عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا وہ آخری وقت میں اس سے ’پیچھے ہٹ‘ گئی۔

وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب طویل مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے تھے۔

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان چار اکتوبر کے لانگ مارچ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سمیت دیگر سیاسی معاملات سے متعلق مذاکرات کے دوران مذاکراتی ٹیموں کے درمیان ’انسدادِ دہشت گردی اور وفاق سے تعاون کے نکات‘ پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا تھا۔

مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے حکومتی مذاکرات کار رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں ساتھ دینے پر تیار نہیں ہوئی۔‘

دوسری جانب مذاکرات کے بعد صحافیوں کی طرف سے موجود سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’لانگ مارچ کا جواب گورنر راج نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مذاکرات کے آپشن برقرار رہتے ہیں۔

اس حوالے سے اب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’خیبر پختونخوا حکومت نے 72 گھنٹوں کے اندر ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور اس پر عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔‘

محسن نقوی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’گذشتہ رات مذاکرات کے آخری مرحلے کے دوران خیبر پختونخوا حکومت ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’صوبہ جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے، ایسے میں سکیورٹی کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے چند نکات بھی شیئر کیے جن پر ان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے اتفاق کیا تھا۔

ان کی جانب سے جاری نکات:

  • سکیورٹی کی صورتحال اور سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت کے پیشِ نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرِ ثانی۔
  • صوبے میں دہشت گردوں کو آزادانہ طور پر کارروائیاں کرنے یا محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے سے روکنا۔
  • ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کی غیر مبہم مذمت۔
  • افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، جس میں واپسی اور خیبر پختونخوا میں افغان کیمپوں کا خاتمہ شامل ہے۔
  • عبوری افغان حکومت سے کوئی رابطہ نہ رکھنا۔
  • انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی۔
  • انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کی مکمل صوبائی ذمہ داری قبول کرنا اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون مزید مضبوط کرنا۔
  • سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلے کرنا۔
  • قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی ایکس پر ’مذاکرات کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ‘ کو شیئر کیا ہے۔

سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ’پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے، ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہماری ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘

انہوں نے بھی چند نکات لکھے اور ساتھ کہا کہ ’اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ