ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں ہندوستان کے ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے کہا ہے کہ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو پناہ دینا ہندوستان کی ذمہ داری تھی، کیونکہ اس وقت وہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں اور نئی دہلی کے پاس "شاید ہی کوئی چارہ” تھا۔
ڈھاکہ میں ‘بے آف بنگال کنورسیشن ۲۰۲۶’ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان لینڈنگ کی اجازت نہ دیتا تو نہ جانے حالات کیا رخ اختیار کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی لیگ کی رہنما کو ہندوستانی فضائیہ یا فوج نہیں لائی تھی۔ وزیر اعظم طارق رحمان نے تقریب کے افتتاحی کلمات ادا کیے، مگر ترویدی کے تبصرے کے وقت وہ موجود نہیں تھے۔
حسینہ اگست ۲۰۲۴ء میں طلبہ کی قیادت والے مظاہروں کے بعد حکومت کے خاتمے پر ملک چھوڑ کر ہندوستان میں مقیم ہیں۔ محمد یونس کی عبوری حکومت اور اب طارق رحمان کی بی این پی حکومت ان کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے۔ بنگلہ دیش میں انہیں سزائے موت کا سامنا ہے، اور حالیہ انٹرویو میں دسمبر میں واپسی کے اعلان سے ڈھاکہ ناراض ہے۔
ترویدی نے کہا کہ حوالگی کی درخواست قانونی عمل کے تحت زیر غور ہے اور اس کے لیے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا۔

