بالی ووڈ اداکارہ راکول پریت سنگھ نے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ممبئی میں کی جانے والی تلاشی کی کارروائی سے اپنا نام جوڑے جانے والی میڈیا رپورٹس پر سخت ردعمل دیا ہے۔
فلم ’یاریاں‘ کی اداکارہ نے پیر کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ان کے بارے میں خبریں حقائق کی تصدیق کیے بغیر سنسنی خیز انداز میں پیش کی گئیں۔ راکول نے واضح کیا کہ انکم ٹیکس کی یہ کارروائی ان کے خلاف نہیں تھی اور میڈیا اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس واپس لیں۔
راکول پریت نے کہا کہ وہ ایک ’آرمی فیملی‘ سے تعلق رکھتی ہیں اور فلمی دنیا میں کسی گاڈ فادر کے بغیر اپنی محنت کے ذریعے مقام بنایا ہے۔ ان کے مطابق وہ 20 سال کی عمر سے باقاعدگی سے اپنے ٹیکس ادا کر رہی ہیں۔
اداکارہ نے غیر قانونی غیر ملکی ترسیلاتِ زر سے اپنے یا کسی پروڈکشن ہاؤس کے تعلق کی بھی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یا بیرون ملک ان کے نام پر کوئی ’بینامی‘ جائیداد نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے کبھی تحفے کے طور پر کوئی قیمتی جائیداد قبول کی۔
راکول پریت نے میڈیا اداروں سے اپیل کی کہ اگر ان کے بارے میں جھوٹی، بدنیتی پر مبنی یا قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں شائع کی گئی ہیں تو انہیں واپس لیا جائے اور حقائق واضح کیے جائیں۔ انہوں نے میڈیا پر موجود تجارتی دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دباؤ حقائق پر مبنی صحافت، کسی فرد کی ساکھ یا اس کے روزگار کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں ممبئی کے متعدد مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں کی تھیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 12 مقامات پر ہونے والی ان کارروائیوں میں راکول پریت کے سسر اور فلم ساز واسو بھگنانی اور ’پینورما اسٹوڈیوز‘ سے مبینہ طور پر جڑے مقامات بھی شامل تھے۔ حکام کی جانب سے مالی لین دین اور مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کی جا رہی تھی۔
راکول پریت کا وضاحتی بیان انہی رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں اداکارہ کا نام اس کارروائی سے منسلک کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے تمام ایسی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے خود کو ان تحقیقات سے الگ قرار دیا ہے۔
Source link

