مذاکرات کےدروازےکھلےہیں، ریاست کویرغمال بناکر کسی بھی مطالبےکو نہیں منوایا جاسکتا، راناثناءاللہ

رانا ثناءاللہ.webp


مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کویرغمال بناکر کسی بھی مطالبےکو نہیں منوایا جاسکتا، راناثناءاللہ

پی ٹی آئی نے سیاسی عدم برداشت،گالم گلوچ کاکلچرسیاست میں متعارف کرایا،مشیر وزیراعظم

وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور راناثناءاللہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کےدروازے کھلے ہیں ریاست کو یرغمال بناکرکسی بھی مطالبےکو نہیں منوایا جاسکتا۔

مسلم لیگ ن کےمرکزی رہنمامشیرسیاسی امور رانا ثناءاللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نےباور کرایا کہ ذاتی مفاد کے ایجنڈےکوقومی مفاد پر ترجیح نہ دی جائے اپوزیشن ذاتی مفاد کے ایجنڈے پر قومی مفاد پر ترجیح دینےسےگریزکرے، ریاست کویرغمال بناکرکسی بھی مطالبےکونہیں منوایاجاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سیاسی عدم برداشت،گالم گلوچ کاکلچرسیاست میں متعارف کرایا، پی ٹی آئی کاایک ہی ایجنڈارہاہےکہ سیاسی عدم استحکام پیداکیاجائے، سیاسی عدم برداشت کا ایجنڈا 2014 سےشروع ہوا۔ پی ٹی آئی نے تسلسل کے ساتھ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھایا، 2014 میں اسلام آباد پر چڑھائی کی اور 126 دن کا دھرنا دیا، پی ٹی آئی ہمیشہ اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کی کوشش میں ہوتی ہے۔

رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا میں کسٹمز اور پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں، ایک طرف شہدا کے نعشیں پڑی تھیں دوسری طرف صوبائی حکومت نعرے لگا رہی تھی، خیبرپختونخوا حکومت ڈھول بجا بجا کر لوگوں کو اکٹھا کر رہی تھی، خیبرپختونخوا حکومت کے رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مشیر وزیراعظم  نے کہا کہ یہ لانگ مارچ کیلئے 4 اکتوبر سےچلے، اب تک چند ہزار لوگوں کو بھی اکٹھا نہیں کر سکے، ان کے منتظمین نے لانگ مارچ کی آڑ میں کروڑوں روپے کی دہاڑی لگائی، سہیل آفریدی نے پہلے دن ہی بتادیا تھا بانی کےعشق میں مرنا چاہتا ہوں، کروڑوں پختونوں کو آپ اس صورتحال سے کیوں دوچار کر رہے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں جو چیز ڈیڈ لاک کا باعث بنی اس کو غلط طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے، تاثر دیا جارہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پالیسی میں ہماری مشاورت شامل نہیں، دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنی ہوئی ہے اور اس پر عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ جوتاثر دے رہے ہیں جو سراسر غلط ہے، افواج پاکستان دلیری کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہیں، ان کوسکیورٹی فورسز کےانٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر اعتراض ہے، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ان کے خلاف ہو رہے ہیں جو دہشت گردی میں ملوث ہیں، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن دہشت گردوں کی شکل میں درندوں کے خلاف ہیں۔

مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کوئی نیا آپریشن ہو رہا ہے اور آئی ڈی پیز بنیں گے، کوئی آئی ڈی پیز نہیں بن رہے، لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری رہیں گے۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، چین، ترکیے نے افغان رجیم کو سمجھانے کی کوشش کی، افغان رجیم کو سمجھایا گیا کہ کوشش کریں آپ کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، پاکستان کے تمام حقائق کو تسلیم کیا گیا لیکن گارنٹی دینے کو تیار نہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ