آئی ایم ایف کی عالمی معیشت کو توانائی کے جھٹکوں اور اے آئی طلب سے خبردار

imf 0741026 d


واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے بدھ کو خبردار کیا کہ عالمی معیشت کو توانائی کی فراہمی کے منفی جھٹکے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی طلب کے مثبت جھٹکے کے باعث دوہرے دباؤ کا سامنا ہے۔
تھائی لینڈ میں ہونے والے آئندہ سالانہ اجلاسوں سے قبل سنگاپور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کو تین بڑے چیلنجوں سے نمٹنا ہوگا: اے آئی کی تیز رفتار آمد، توانائی کی مسلسل بلند قیمتیں اور عوامی قرض کی ریکارڈ سطح۔
جارجیوا کے مطابق عالمی عوامی قرض جلد ہی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے 100 فیصد سے تجاوز کرنے والا ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد بلند ترین سطح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ معیشتیں سب سے زیادہ قرضوں کے بوجھ کے ساتھ اس معاملے میں سرفہرست ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نقل و حمل کے اخراجات اور دیگر خطرات کے سبب تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے ترسیل کو لاحق خطرات کی وجہ سے خلیج سے قدرتی گیس کی فراہمی شدید متاثر ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے آئی ہارڈویئر اور متعلقہ مصنوعات اب دنیا کی اشیا کی تجارت کا 10 فیصد سے زیادہ ہیں۔ ان کے بقول، اگر ممالک اسے درست طریقے سے منظم کریں تو اے آئی بالآخر سالانہ 0.5 فیصد اضافی عالمی ترقی دے سکتا ہے۔
جارجیوا نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ ضروری اقدامات میں تاخیر ختم کریں اور قابل اعتماد مالیاتی استحکام کے منصوبوں پر عمل کریں۔ انہوں نے مرکزی بینکوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ مالیاتی پالیسیوں میں احتیاط برقرار رکھیں، کیونکہ اے آئی کی تعمیر میں تیزی، توانائی کے جھٹکے اور بلند عوامی قرض افراط زر کو ہوا دے سکتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ