واشنگٹن: کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فکسڈ ونگ، روٹری ونگ اور بغیر پائلٹ کے طیارے تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ غیر جماعتی ادارے کی یہ رپورٹ 28 فروری سے پیش آنے والے واقعات پر مبنی ہے، جنہیں پینٹاگون کے ریکارڈ، سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے بیانات، فوجی انسپکٹر جنرل کی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس سے جمع کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان بغیر پائلٹ کے طیاروں کو پہنچا۔ 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز اور 3 ایم کیو-1 ملٹی رول طیارے مار گرائے گئے، جبکہ ایک ایم کیو-4 سی ٹرائٹن پرواز کے دوران حادثے میں تباہ ہوا۔
انسان بردار جنگی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔ مجموعی طور پر 12 ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل متاثر ہوئے، جن میں 3 کویت کے اوپر اپنے ہی فوجی دستوں کی فائرنگ سے تباہ ہوئے اور ایک ایران کے اوپر مار گرایا گیا۔ باقی 8 طیاروں کو اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے میں معمولی نقصان پہنچا اور وہ بعد میں دوبارہ سروس میں شامل ہوگئے۔ ایرانی زمینی فائرنگ سے ایک ایف-35 اے لائٹننگ II کو نقصان پہنچا، جبکہ 2 اے-10 تھنڈر بولٹ II تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔
معاون طیاروں کے بیڑے کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ 7 کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر متاثر ہوئے، جن میں عراق میں ایک جان لیوا حادثے میں 6 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ سعودی عرب میں 5 طیاروں کو مبینہ طور پر زمین پر نقصان پہنچا۔ ایک ای-3 سینٹری ابتدائی انتباہی طیارے کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایم سی-130 جے اسپیشل آپریشنز کے 2 ٹرانسپورٹ طیارے ایک امدادی مشن کے دوران جان بوجھ کر تباہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ اے ایچ-64 اپاچی اور اے ایچ-6 لٹل برڈ سمیت 7 فوجی ہیلی کاپٹر بھی تباہ یا متاثر ہوئے۔
یہ انکشافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب جنگ کے مالی اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی مربوط کارروائیوں سے شروع ہوئی تھی۔ ستمبر میں جاری لیڈ انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق جون کے آخر تک اس مہم پر مجموعی طور پر 33.4 ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے، جن میں 3.7 ارب ڈالر آلات اور سازوسامان کے نقصانات کی مد میں تھے۔ کانگریشنل بجٹ آفس کا اندازہ ہے کہ فوجی سازوسامان کی جگہ نیا سامان خریدنے کی لاگت 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
سی آر ایس نے واضح کیا کہ نقصانات کی تعداد میں مزید تبدیلی ہوسکتی ہے، کیونکہ بعض معلومات خفیہ ہیں، فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور بعض نقصانات کی ذمہ داری کا تعین ابھی حتمی نہیں ہوا۔

