لاہور ہائی کورٹ نے جمعرات کو پنجاب کی عدالتوں کے احاطے میں ویڈیوز اور تصاویر بنانے پر پہلے سے عائد پابندی پر سختی سے عمل درآمد کا حکم دوبارہ جاری کیا ہے۔
دوبارہ حکم دینے کی وجہ حالیہ عرصے میں عدالتی احاطے میں پیش آنے والے مختلف واقعات کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا جانا ہے۔ ان میں اعلیٰ سرکاری حکام کی پیشیوں، ضمانتیں خارج ہونے کے بعد پیش آنے والے واقعات اور خاندانی مقدمات میں فریقین کے درمیان جھگڑوں کی ویڈیوز شامل ہیں۔
رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی احاطے میں ویڈیوز یا تصاویر بنانے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
نوٹیفکیشن کے مطابق عدالتی احاطے میں ویڈیو یا تصاویر بنانے والوں کی ڈیوائسز ضبط کی جائیں گی، جبکہ میڈیا کو صرف لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں کیمروں کے لیے مختص جگہ پر کوریج کی اجازت ہوگی۔
عمل درآمد کا حکم دوبارہ کیوں دیا گیا؟
لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران متعدد ایسے واقعات پیش آئے جن کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں۔
ایک واقعے میں ایس ایچ او کی ضمانت خارج ہونے کے بعد وکلا نے انہیں پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا، جس کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔
اسی طرح آئی جی پنجاب اور سربراہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی عدالت میں پیشی کے موقع پر بھی عدالتی احاطے میں ان کی ویڈیوز بنائی گئیں۔
اس کے علاوہ خاندانی مقدمات میں فریقین کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہی ہیں۔
عدالتی وقار برقرار رکھنا ضروری ہے، صدر ہائی کورٹ بار
لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر بابر مرتضیٰ خاں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمرہ عدالت میں موبائل فون کی گھنٹی بجنے اور کوریج کرنے پر پہلے ہی سخت پابندی ہے، تاہم عدالتی احاطے میں سائلین اور وکلا سے متعلق واقعات کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق بالخصوص خاندانی مقدمات میں فریقین کے درمیان تنازعات کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی جاتی ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بابر مرتضیٰ خاں نے کہا کہ پابندی پر عمل درآمد ضروری ہے کیونکہ عدالتوں کے وقار اور احترام کو برقرار رکھنا لازم ہے۔
کیا دوبارہ پابندی کے حکم پر عمل درآمد ممکن ہوگا؟
ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کے مطابق کسی بھی ادارے میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے پابندیاں عائد کرنا متعلقہ حکام کا قانونی اختیار ہے، تاہم عدالتوں کے باہر پیش آنے والے واقعات کی اخلاقی اصولوں کے مطابق رپورٹنگ بھی ضروری ہے کیونکہ شہریوں کو عوامی اہمیت کے واقعات سے آگاہ ہونے کا حق حاصل ہے۔
دوسری جانب صحافیوں کا کہنا ہے کہ عدالتی احاطوں میں موبائل فون سے ویڈیوز اور تصاویر بنانے پر مکمل پابندی کا نفاذ مشکل ہوگا۔
ان کے مطابق وکلا، عدالتی عملے، سائلین اور صحافیوں سمیت تقریباً ہر شخص کے پاس موبائل فون موجود ہوتا ہے، اس لیے سب کو موبائل فون لے جانے سے روکنا عملی طور پر ممکن نہیں۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ اب صرف صحافی ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی مختلف واقعات کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ ایسے میں عدالتی احاطے میں کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آنے کی صورت میں اس کی ویڈیو ریکارڈنگ اور تشہیر روکنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

