بنگلہ دیش میں قومی انتخابات کی مہم کا آغاز امیدواروں میں سخت مقابلہ

news 1770573602 8442



news 1770573602 8442

(سلیم رضا) بنگلہ دیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے جمعرات کو ملک بھر میں انتخابی مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔

 ڈھاکہ سے24نیوز کے نامہ نگار سلیم رضا کے مطابق 12 فروری کو ہونے والے انتخابات سے قبل ہزاروں امیدوار ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے میدان میں آ گئے ہیں، یہ انتخابات ایک ریفرنڈم کے ساتھ منعقد ہوں گے۔

تقریباً 2 ہزار امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں  جن میں 51 رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے 1,732 امیدوار شامل ہیں، انتخابی مہم اب براہ راست ووٹرز سے رابطے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس میں گھر گھر کینوسنگ، محلہ دورے، سڑکوں پر ریلیاں اور بڑے عوامی اجتماعات شامل ہیں۔

بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی مہم 12 فروری کو ووٹنگ شروع ہونے سے 48 گھنٹے قبل ختم ہو جائے گی،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 300 پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے 288، بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے 224، نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے 32، جماعتی پارٹی کے 192 جبکہ 249 آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔

یہ عام انتخابات ماضی کے انتخابات سے مختلف ہیں کیونکہ ووٹرز نہ صرف اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے بلکہ اہم آئینی اصلاحات پر ہونے والے ریفرنڈم میں بھی ووٹ دیں گے۔ ان آئینی تبدیلیوں کا مقصد جمہوری نظام کو مضبوط بنانا اور حکومت میں اختیارات کے توازن کو یقینی بنانا ہے۔

انتخابی مہم کے آغاز پر بی این پی، جماعت اسلامی اور این سی پی سمیت بڑی سیاسی جماعتوں نے دارالحکومت ڈھاکہ اور ملک کے دیگر شہروں میں بڑی ریلیاں نکالیں۔

بنگلہ دیش کے انتخابی حکام کے مطابق اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفیٰ اور ملک چھوڑنے کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں، جن کے لیے 127 ملین سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ہم سیاہ تاریخ کو نہ بھولے ہیں اور نہ ہی بھولنے دیں گے؛سیمابیہ طاہر





Source link

متعلقہ پوسٹ