امریکہ-ایران جنگ: ٹرمپ کا معاہدے میں عدم دلچسپی کا اظہار، این بی سی کے مطابق ایران پر دوبارہ بڑے حملوں پر غور

Inquilab 20260921 192725 0000 d 1


واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے لئے ان کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ معاہدہ ان کی ترجیح نہیں۔ سان انتونیو میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "میرا خیال ہے کہ یہ معاہدہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو میں واقعی کرنا چاہتا ہوں، لیکن وہ جنگ روکنے کے لئے ہمیں کچھ بھی پیش کرنے کو تیار ہیں۔” انہوں نے کہا، "یہ جنگ ختم ہو رہی ہے۔” ایران کو انہوں نے "تھوڑی سی ہمت باقی رکھنے والی ناکام ریاست” قرار دیا اور کہا کہ تہران کے پاس "کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے”۔ انہوں نے وٹکوف کو "عظیم مذاکرات کار” بھی کہا۔
دوبارہ حملوں پر غور: این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم نے آئندہ ہفتوں میں ایران میں بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر تبادلہ خیال کیا ہے، جن میں اگلے ماہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ممکنہ حملے بھی شامل ہیں۔ محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے کہا کہ پینٹاگون کا کردار "صدر کے لئے فوجی آپشنز تیار کرنا اور پیش کرنا ہے”۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ایران "تباہ و برباد ہو چکا ہے” اور اب "آسان راستہ یا مشکل راستہ” اختیار کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی: آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک دو ماہ سے زائد عرصے میں کم ترین سطح پر ہے؛ منگل کو صرف 7 جہاز گزرے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے آبی گزرگاہ پر "مکمل کنٹرول” کا دعویٰ کیا۔ جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 125 جہاز گزرتے تھے، جبکہ اب تعداد تقریباً 10 رہ گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ایران "ہرمز کا مکمل کنٹرول کھو چکا ہے” اور تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب ہے۔ اس ہفتے قطر کے ساحل کے قریب ایک ٹینکر کو "متعدد پروجیکٹائلز” سے نشانہ بنایا گیا، جو ایک ہفتے میں اس نوعیت کا 12واں واقعہ ہے۔
متضاد بیانات: منگل کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو "اچھے راستے یا ناخوشگوار راستے” میں سے ایک چننا ہو گا، جبکہ بدھ کو اعلان کیا کہ جنگ پہلے ہی "جیتی جا چکی ہے”۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ ایران لاس اینجلس یا سان ڈیاگو جیسے امریکی شہروں کو جوہری ہتھیاروں سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ 2025ء میں امریکی انٹیلیجنس نے اندازہ لگایا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا اور اس کے پاس امریکی سرزمین تک پہنچنے والے میزائل نہیں۔
تیل کی قیمتیں: سپلائی میں تعطل کے خدشات کے باعث جمعرات کو تیل کی قیمتیں 101 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں؛ برینٹ کروڈ میں 1.33 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 1.26 فیصد اضافہ ہوا۔

متعلقہ پوسٹ