ایک سے تین سال کے بچوں کی غذا میں کن غذائی اجزا کو شامل کرنا ضروری ہے؟

food kids1791554305 0



ایک سے تین سال کی عمر بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی اہم مرحلہ ہوتی ہے، لیکن اسی عمر میں اکثر والدین خصوصاً مائیں بچوں کو کھانا کھلانے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ بچے کئی مرتبہ کھانے سے انکار کرتے ہیں یا معمولی مقدار میں غذا کھاتے ہیں، جس سے متوازن غذائیت کا حصول مشکل ہوسکتا ہے۔

اس عمر میں بچوں کو دن کے دوران پانچ سے چھ مرتبہ غذا دینے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ اگر خوراک میں ضروری وٹامنز اور معدنیات کی کمی ہو تو اس کا اثر بچے کی نشوونما پر پڑ سکتا ہے اور غذائی کمی بعض بیماریوں اور انفیکشنز کے خلاف جسم کی مزاحمت کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

وٹامن ڈی بچوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی شدید کمی ہڈیوں اور جسمانی نشوونما پر اثر ڈال سکتی ہے۔ مچھلی، انڈے کی زردی اور ایک سے تین سال کے بچوں کے لیے موزوں مقدار میں گائے کا دودھ اس وٹامن کے ذرائع میں شامل ہیں۔ سورج کی روشنی بھی جسم میں وٹامن ڈی بنانے کا اہم ذریعہ ہے اور روزانہ تقریباً 15 منٹ دھوپ حاصل کرنے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم دھوپ کی مقدار اور بچوں کی جلد کی حفاظت کے حوالے سے مقامی طبی مشورہ اہم ہے۔

وٹامن کے بھی بچوں کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ خون جمنے کے عمل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی میں غیر معمولی خون بہنے اور دیگر مسائل کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ بروکلی، سبز پتوں والی سبزیاں، بند گوبھی، پھول گوبھی اور گوشت اس کے غذائی ذرائع میں شامل ہیں۔

وٹامن اے بچوں کی بینائی، مدافعتی نظام اور جلد کی صحت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کی مناسب مقدار بچے کی مجموعی نشوونما میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔ گاجر، کدو، بروکلی، دودھ، پنیر، انڈے اور شملہ مرچ سے وٹامن اے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

آئرن کی مناسب مقدار بھی اس عمر میں خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ سرخ خون کے خلیوں کی تیاری کے لیے ضروری ہے اور بچوں میں خون کی کمی سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔ آئرن کی کمی کی ممکنہ علامات میں بھوک کم ہونا، چڑچڑاپن، تھکن، چکر آنا اور بار بار انفیکشن کا شکار ہونا شامل ہوسکتا ہے۔ سبز پتوں والی سبزیاں، چقندر، میوے، خشک کھجوریں، انڈے، مچھلی اور چکن اس کے ذرائع میں شامل ہیں۔

اسی طرح کیلشیم بچوں کی ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوط نشوونما کے لیے ضروری معدنی جز ہے۔ اس کی کمی میں کمزوری اور ٹانگوں میں درد جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔ دودھ اور اس سے بنی مصنوعات، سبزیاں، باجرا، انڈے اور میوے کیلشیم فراہم کرسکتے ہیں۔

بچوں کی غذا میں یہ تمام اجزا عمر کے مطابق مناسب مقدار میں شامل کرنا ضروری ہے، جبکہ کسی وٹامن یا معدنی سپلیمنٹ کا استعمال بچوں کے ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کرنا زیادہ محفوظ ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ