جنیوا): عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے روس کے شہر ارکتسک میں ایک لیبارٹری ملازمہ کی موت کے معاملے پر روسی حکام سے مزید معلومات طلب کی ہیں۔ اس موت کو طاعون کا مشتبہ کیس بتایا جا رہا ہے۔
ادارے کے مطابق متضاد اطلاعات واضح ہونے تک ممکنہ عوامی صحت کے خطرے کا مکمل جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ ارکتسک اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ملازمہ 2 اکتوبر کو شدید نمونیا کے باعث اسپتال میں داخل ہوئیں اور انتقال کر گئیں۔ ان کے مطابق ایک دوسرے ملازم کے بھی نامعلوم وجہ سے مشتبہ نمونیا میں مبتلا ہونے اور موت کی اطلاعات ہیں۔
ابتدائی میڈیا رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ملازمہ کسی ممکنہ لیبارٹری حادثے میں پلمونری طاعون (نمونیا کا باعث بننے والا طاعون) سے متاثر ہوئی ہوں گی۔ ڈبلیو ایچ او نے اسی بنیاد پر روسی حکام سے تفصیلات مانگی ہیں۔
ٹیڈروس کے مطابق ادارے نے شدید نمونیا کی وجہ، اس جرثومے کے بارے میں جس کے باعث عوامی صحت کے اقدامات شروع کیے گئے، اور دوسرے ملازم کی صورتِ حال سے متعلق مزید معلومات طلب کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت، مکمل اور شفاف معلومات کا تبادلہ تضادات دور کرنے اور خطرے کا درست اندازہ لگانے کے لیے ضروری ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے بین الاقوامی صحت ضوابط کے تحت 3 اکتوبر کو روس سے رابطہ کر کے واقعے اور حکام کے اقدامات کی تفصیل مانگی تھی۔

