حکومت بھلے ہی جنتر منتر پر احتجاج کی آواز دبا دے، مگر دنیا سن رہی ہے

Gyanesh Protest PTI 1


تصویر: پی ٹی آئی

اگر پورا اسٹیٹ اپنی ساری طاقت کے ساتھ آپ کے خلاف کھڑا ہو جائے تو اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کون زیادہ طاقتور ہے؟ کون خوف زدہ ہے؟ جو خوف زدہ ہے، وہ نعرے لگانے والوں کو ڈنڈے اور بندوق سے ڈرا رہا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی نیند اڑ گئی ہے۔ اسے ہر طرف مخالفین نظر آ رہے ہیں، مخالفین کا بھوت اسے ستا رہا ہے۔ دہلی پولیس، بنگال پولیس، گجرات پولیس، مدھیہ پردیش پولیس، ہر ریاست اور شہر کی پولیس گلی گلی چکر لگا رہی ہے۔ ہر نوجوان کو آنکھوں سے سونگھ رہی ہےکہ کہیں وہ 10 اکتوبر کو جنتر منتر کے احتجاج میں  تو شامل نہیں ہونے والا!

دہلی کی کسی بھی سڑک پر چلنے والے شخص کے قدموں کودہلی پولیس بھاپنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کہیں وہ جنتر منتر کی طرف تو نہیں مڑنے  جا رہا۔ اس وقت ہر شخص حکومت کے لیے ایک ممکنہ احتجاجی ہے۔

دہلی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مغربی بنگال، جموں و کشمیر اور چھتیس گڑھ سے ریزرو پولیس کے جوانوں کو ہوائی جہاز سے دہلی لایا جا رہا ہے۔ تقریباً 20 ہزارپیرا ملٹری کے جوان پہلے ہی دہلی میں تعینات ہیں، جبکہ اور 12 ہزار کو دہلی میں اتارا جا رہا ہے۔

تازہ خبر کے مطابق، سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی 221 کمپنیاں مہیا کرائی جا رہی  ہیں۔ دس ڈٹینشن سینٹر تیار کیے گئے ہیں، جہاں گرفتار لوگوں کو رکھا جائے گا۔ اولا اور اوبر جیسی ٹیکسی کمپنیوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ 10 اکتوبر اور اس کے آس پاس دہلی کی سڑکوں پر نہ رہیں۔ ہوٹلوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مہمانوں کو ٹھہرنے کی جگہ نہ دیں۔ دہلی کے دو بڑے ریلوے اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں۔ ان اسٹیشنوں پر آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی ٹرینیں ردکر دی گئی ہیں۔ میٹرو کے 57 اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں۔ دہلی کی تقریباً ہر سڑک پر بیریکیڈ لگا دیے گئے ہیں۔ دکانوں اور ریستورانوں کواپنا کام جلدی ختم کرنے کو کہا گیا ہے۔

دہلی کے ایک بڑے حصے میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔ لیکن دہلی یونیورسٹی کے کالجوں میں کلاسز آن لائن کر دی گئی ہیں۔ انٹرنیٹ کے بغیر یہ کلاسز کیسے چلیں گی؟ کوئی جواب نہیں۔ کیمپس کے آس پاس پولیس کا بھاری بندوبست ہے۔

سیاسی جماعتوں کے دفاتر کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

کئی یوٹیوبر الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں فون کرکے جنتر منتر جانے اور حکومت کے حق میں ویڈیو بنانے کے لیے کہا جا رہا ہے، اور اس کام کے لیےپیسے  دیے جا رہے ہیں۔

صاف ہے کہ حکومت کو اپنے لوگوں پر بھی بھروسہ نہیں رہ گیا ہے۔ یا یوں کہیں کہ لوگوں پر، کیونکہ اس کے اپنے لوگ کھلے عام ویڈیو بنا رہے ہیں اور جنتر منتر کے آس پاس چکر لگا رہے ہیں۔ دھمکی دے رہے ہیں کہ حکومت کے مخالفین کو سبق سکھانے کے لیے تیار ہیں۔

پولیس تشدد کی دھمکیاں دینے والے ان غنڈوں کو گرفتار کیوں نہیں کر رہی؟ وہ جگہ جگہ سے ان تمام لوگوں کو تو پکڑ رہی ہے جن کے بارے میں اسے شبہ ہے کہ وہ احتجاج میں حصہ لیں گے، لیکن ان غنڈوں کو اس نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ کیا اس لیے کہ یہ غنڈے پولیس کے ساتھی ہیں؟ یہی وہ لوگ ہیں جو نعرے لگاتے ہیں؛ ’دہلی پولیس، لٹھ چلاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ‘

تو  آج لٹھ بجانے والے غنڈے آزاد ہیں، اور صرف اپنے خیالات سے مسلح لوگ گرفتار کیے جا رہے ہیں۔ سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، بلکہ یہ کہناچاہیےکہ پولیس انہیں اٹھا کر لے گئی ہے۔ کئی لوگوں کے گھروں پر پولیس  کے لوگ ڈیرہ جما کر  بیٹھ گئے ہیں۔ یہ سراسر غیر قانونی ہے۔

لیکن عدالتوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں ہیبیس کارپس کی عرضی کو ججوں نے ایک طرف سرکا دیا۔  کہا کہ پولیس ان لوگوں کو ان کے ماں باپ کے پاس بھیج دے۔ سوچیے، بالغ لوگوں کو پولیس نے کسی قانونی کارروائی کے بغیر غائب کر دیا ہے، اور عدالت کو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آ رہی۔ بلکہ عدالت 13 اکتوبر تک انتظار کرنے کو کہہ رہی ہے۔ یعنی پولیس جب چاہے، جتنے دن چاہے، آپ کو غائب کرسکتی ہے۔

اسی طرح سپریم کورٹ کو بھی یہ صحیح لگ رہا ہے کہ حکومت دہلی کو پوری طرح جام کر دے۔ شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے حق کا اب کوئی مطلب نہیں رہ گیا، کیونکہ عدالت کو حکومت کے کسی نہ کسی طرح اقتدار میں برقرار رہنے کے حق کی زیادہ فکر ہے۔ عدالت نے یہ کہا کہ اگر احتجاج کے لیے اجازت نہیں لی گئی ہے تو وہ غیر قانونی ہے اور حکومت اسے روکنے کے لیے آزاد ہے۔ شہر کا نظام ٹھپ کر دینا بھی اسے ٹھیک لگ رہا ہے۔

اگر پورا اسٹیٹ اپنی ساری  طاقت کے ساتھ آپ کے خلاف کھڑا ہو جائے تو اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کون زیادہ طاقتور ہے؟ کون خوف زدہ ہے؟ جو خوف زدہ ہے، وہ نعرے لگانے والوں کو ڈنڈوں اور بندوقوں سے ڈرا رہا ہے۔

نعرے، لیکن لگ رہے ہیں۔ حکومت بھلے اپنے کان میں بندوق کی گولی ٹھونس لے، نعرے بلند ہو رہے ہیں اوروہ نہ سن رہی ہو، لیکن باقی سب سن رہے ہیں۔

آج اگر جنتر منتر پر آوازوں کا گلا گھونٹ دیا جائے اور خاموشی ہی خاموشی ہو، تو اس خاموشی کی دہاڑ سب کو سنائی دے گی۔

(اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں)



Source link

متعلقہ پوسٹ