نیویارک: اقوام متحدہ میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر فلسطین کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
پیر کو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتام پر 15 رکنی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے منصور نے کہا کہ فلسطین اجلاس میں ہر جگہ موجود تھا۔ ان کے مطابق 152 رکن ممالک کی بھاری اکثریت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مداخلت کی کہ فلسطینی وفد کو دیگر خودمختار ممالک کے نمائندوں کے برابر شرکت کا حق ملے، جس سے میزبان ملک کی جانب سے ویزوں سے انکار کی پابندیاں براہِ راست ختم ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو نسل کشی، قبضے، آبادکاری یا الحاق کے ذریعے غیر مرئی نہیں بنایا جا سکتا۔
منصور نے خبردار کیا کہ فلسطینی علاقوں کا الحاق مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضے اور تعمیرات پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے یروشلم کے قریب E1 کوریڈور میں تعمیراتی منصوبوں کے ٹینڈرز کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ یہ فلسطینی ریاست اور امن کے ہر امکان کو ختم کرنے کی وسیع کوشش کا آخری مرحلہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی حکام فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں۔
سفیر نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کبھی اختیاری اقدام کے طور پر نہیں بنائی گئی تھی اور دہائیوں کی زبانی مذمت توسیع پسندی روکنے میں کارگر نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ بیانات سے اقدامات، مذمت سے جواب دہی اور یکجہتی سے عملی نفاذ کی طرف بڑھا جائے۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ قابض قوتوں کو غیر مسلح کیا جائے اور توسیع پسندی کو مالی معاونت دینے والے حکام، مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کو جواب دہ بنایا جائے۔ عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیسرے ممالک قانونی طور پر قبضے کو تسلیم کرنے اور اسے مادی معاونت دینے سے گریز کے پابند ہیں، اور ان کے الفاظ میں غیر قانونی قبضے کو طول دینے کے لیے نہ پیسہ ہو، نہ تجارت اور نہ ہتھیار۔

