(وسیم عظمت) دہی میں آج ووٹرز لسٹ دھاندلا کے مجرم گیانیش کمار کی برطرفی کیلئے احتجاج ہوا تو سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق وزیراعلیٰ مانک سرکار، ان کے ساتھ کاکروچ پارٹی کے سربراہ دیپکے اور آل انڈیا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی لیڈر نیہا کو بھی کو حراست میں لیا گیا کیونکہ دہلی سیکورٹی کے قلعے میں بدل گیا ہے۔
بھارت میں 13 زندہ انسانوں کے سیاسی وجود کے جینوسائیڈ کے مجرم گیانیش کمار کی الیکشن کمیشن سے برطرفی کے لئے احتجاج جوں جوں بڑھ رہا ہے، ہندوتوا کی توپ سے ساے بھارت کو فنا کر دینے کے درپے بی جے پی حکومت کا طیش بھی اتنی ہی شدت سے بڑھ رہا ہے۔ اس طیش کا اظہار سڑکوں پر گیانیش کمار کی برطرفی کے مطالبہ کو لے کر احتجاج کرنے والوں کے ساتھ پولیس کے سلوک سے ہو رہا ہے۔ احتجاج کرنے والے مرد ہوں یا عورتیں ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جیسا قصاب بھیڑ بکریوں سے کریں تو ان پر مقدمے بن جاتے ہیں۔
نریندر مودی کی آنکھ کے اشارے پر ووٹرز لسٹ دھاندلا برپا کرنے والے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو الیکشن کمیشن سے نکالنے کا مطالبہ کرنے والوں کو سڑکوں پر مارا پیٹا جا رہا ہے اور بے دردی کے ساتھ گھسیٹ گھسیٹ کر گرفتار کیا جا رہا ہے۔
اب نئی دہلی میں یہ ہوا ہے کہ پولیس نے کریک ڈاؤن کر کے سینکڑوں سیاسی کارکنوں، سٹوڈنٹس اور کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کو حراست میں لے لیا۔
سیکیورٹی فورسز نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں کو مکمل طور پر بند ہی کر دیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاج کی کال کو ناکام بنانے کے لیے شہر میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار ہر جگہ کھڑے کر دیئے گئے۔ تجارتی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی اور درجنوں میٹرو سٹیشنز اور بازار بند کر دیے گئے۔
یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ووٹر لسٹوں میں کی گئی ان ترامیم کے خلاف کیا جارہا تھ جن کے نتیجے میں 13 کروڑ بھارتی شہری اپنے ووٹ سے محروم ہو گئے۔ ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور ان ہندوؤں، قبائلیوں اور مذہبی اقلیتوں کے لوگوں کی جن کو بھارتیہ جنتا پارٹی کا ووٹر نہیں سمجھا جاتا۔ گیانیش کمار نے چن چن کر ووٹرز لسٹوں میں نریندر مودی کے ھکلے مخالفوں کا صفایا کیا اور اس گھتیا عمل میں الیکشن کمیشن کے دوسرے دو ارکان کے احتجاج اور تنبیہوں کو بھی نظر انداز کر دیا جو ابتدا سے ہی ووٹرز لسٹ دھاندلا اور گیانیش کمار کے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کو داغ لگانے والے ہر قدم کی مخالفت کر رہے تھے۔

بھارت میں اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ گیانیش کمار نے چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے متنازعہ کام کئے اور اس کے ہر گندے کام نے نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچایا۔
اگرچہ سکیورٹی فورسز نے وسطی دہلی میں احتجاج کے مقررہ مقام ‘جنتر منتر’ کو پہلے ہیہر طرف سے کورڈن آف کر دیا تھا لیکن اس کے بعد ردعمل یہ ہوا کہ شہر کے دیگر حصوں میں چھوٹے مظاہرے پھوٹ پڑے۔
پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے او دوسرے رہنماؤں سورو داس اور آسوتوش رانکا کو حراست میں لے لیا۔ دیپکے نے گرفتاری سے قبل ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو سٹیٹمنٹ میں بتایا کہ ان کی گرفتاری کے بعد پارٹی رہنما اجنکیا شندے جنتر منتر پارک والے احتجاج کی قیادت کریں گے۔
نیہا کی گرفتاری، ممتا بینر جی اور سی پی آئی کے سیکرٹری جنرل بھی پکڑے گئے
پولیس نے آج بھی آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکرٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن اور معروف سیاستدان یوگیندر یادو کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین، اروند کیجریوال اور مانک سرکار کو بھی حراست میں لیا گیا کیونکہ دہلی سیکورٹی کے قلعے میں بدل گیا ہے۔
مشرقی بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیرِ اعلیٰ اور ترنمول کانگرس کی رہنما ممتا بنرجی کو وسطی دہلی میں ایک بس سٹینڈ کے قریب دھرنا دینے کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔
عام آدمی پارٹی کے بانی اور دہلی کے سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال آج پہلی بار اس احتجاج میں آئے اور آج ہی ان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

حکمران جماعت بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے ہمیشہ مہذب سیاست کرنے والے سینئیر پارلیمانی سیاست دانوں کو بھی ‘”انتشار پسند عناصر”‘ قرار دیتے ہوئے اس احتجاج کو ایک ‘ناکام شو’ قرار دیا۔
بھاجپا کے بھونپو نے صحافیوں کو بتایا کہ ’جنتر منتر پر جو کچھ ہو رہا ہے اور جو آپ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں، وہ پورے بھارت کی کہانی نہیں ہے۔ بھارت پرسکون ہے اور اچھی طرزِ حکمرانی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے‘۔
گیانیش کا زیادہ سگین جرم
حقیقت یہ ہے کہ ووٹرز لسٹ میں 13 کروڑ ووٹوں کے دھاندلا کا براہ راست شکار ہونے والے چوتھائی ارب انسان تو رو ہی رہے ہیں، ان کے ساتھ اب بی جے پی کے ووٹروں کو چھوڑ کر باقی سارا بھارت احتجاج کر رہا ہے ۔ ان سب کو شکایت ہے کہ گیانیش کمار نے صرف کروڑوں ووٹروں کو ہی ووٹرز لسٹوں سے نہیں نکالا بلکہ الیکشن کمیشن کے ادارہ کی آذادی، غیر جانبداری کی طویل عرصہ میں بنائی ہوئی ساکھ کو برباد کر ڈالا ہے۔ یہ الیکشن کمیشن ہی تھا جس نے بھارت کی بہت متنوع سوسائٹی میں بے پناہ جہالت اور گروہی تشدد کے رجحانات کے باوجود جمہوریت کو اب تک سنبھالے رکھا۔

