کیا صرف 100 روپے سے بچت کا آغاز ہوسکتا ہے؟

399064 1096247838


پاکستان میں مہنگائی کے باعث اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بچت صرف امیر افراد ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

 بچت کی عادت رقم کی مقدار سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص صرف 50، 100 یا 200 روپے ماہانہ بھی باقاعدگی سے بچانا شروع کر دے تو وقت کے ساتھ یہ ایک بڑی رقم  بن سکتی ہے۔

لیکن عام آدمی دو طرح کی مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ عام شخص یہ نہیں جانتا کہ چھوٹی رقم سے کون سا سیونگ اکاؤنٹ کھولا جا سکتا ہے جو زیادہ منافع دے اور دوسرا مسئلہ بینکس میں پیش آتا ہے۔ بینک آج کل بچت اکاؤنٹ کھولنے کی بجائےکرنٹ اکاؤنٹ کھولنے کو ترجیح دیتے ہیں اور کسٹمر کو مکمل درست معلومات نہیں دیتے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے حقائق جاننے کی کوشش کی ہے۔

بینکس کسٹمر کو بچت کی بجائے کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے کا مشورہ اس لیے دیتے ہیں تاکہ بینک اس رقم پر تو منافع کمائے لیکن کسٹمر کو یہ منافع نہ دینا پڑے۔ بینکنگ سٹاف کو کرنٹ کھاتے کھولنے کے اہداف دیے جاتے ہیں اور اہداف پورا نہ ہونے پر تنزلی بھی کی جاتی ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ کھولنے سے بینک کا تو فائدہ ہو جاتا ہے اور بینکنگ سٹاف کی بھی ترقی ہو جاتی ہے لیکن کسٹمر کو نقصان ہو جاتا ہے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق چھوٹی رقم پر سب سے زیادہ منافع اور آسان شرائط ایزی پیسہ اور جاز کیش جیسے مائیکرو فنانس بینکس آفر کر رہے ہیں۔

ایزی پیسہ میں بچت اکاؤنٹ 100روپے سے آن لائن کھولا جا سکتا ہے۔ منافع کی شرح تقریباً 7فیصد ہے۔ یعنی 100پر 7روپے منافع۔ اگر آپ فائلر ہیں تو 15فیصد کٹوتی کے بعد 5.95روپے اور نان فائلر کی صورت میں 30 فیصد کٹوتی کے بعد 4.9روپے سالانہ منافع مل سکتا ہے۔

ایزی پیسہ کا ایک ٹائی ٹینیم پلان بھی ہے۔ اگر آپ کے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں روزانہ تقریباً 50ہزار روپے کا بیلنس براقرار رہے تو آپ ماہانہ تقریباً 583.33روپے منافع کما سکتے ہیں۔ 50ہزار کا بیلنس برقرار رکھنا لازمی ہے۔ اگر آپ فائلر ہیں تو پانچ ہزار کے بیلنس پر 15 فیصد ٹیکس کٹوتی کے بعد تقریباً 495.83روپے منافع حاصل ہو سکتا ہے اور اگر نان فائلر ہیں تو 30فیصد کٹوتی کے بعد تقریباً 408.33روپے بچائے جا سکتے ہیں۔

موبی لنک مائیکروفنانس بینک بچت اکاؤنٹ 100روپے سے کھولا جا سکتا ہے۔ لیکن منافع کی شرح تقریباً 9.5فیصد ہے۔ یعنی 100پر 9.5روپے منافع اگر آپ فائلر ہیں تو 20فیصد  کٹوتی کے بعد 7.6 روپے  اور نان فائلر کی صورت میں 40 فیصد کٹوتی کے بعد تقریباً 5.7 روپے  سالانہ منافع مل سکتا ہے۔

موبی لنک مائیکرو فنانس بینک (جاز کیش) کا ایک سیور کلب 15 پروگرام بھی ہے۔ اگر صرف 2000روپے کا روزانہ بیلنس موجود رہے تو سالانہ 15فیصد تک منافع کمایا جا سکتا ہے۔ 2000 روپے ڈپازٹ رکھنا لازمی ہے۔ منافع کی یہ شرح چھوٹی رقوم کے لیے اس وقت کی معلومات کے مطابق سب سے زیادہ ہے۔ لیکن اس پر ٹیکس کٹوتی فائلر کی صورت میں 20فیصد ہو گی اور نان فائلر کے لیے 40 فیصد۔ 50ہزار ڈپازٹ پر فائلر ٹیکس کٹوتی کے بعد ماہانہ منافع تقریباً 500 اور نان فائلر کی صورت میں 375روپے مل سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قومی بچت میں عام سیونگ اکاؤنٹ پر سالانہ منافع کی شرح 10 فیصد ہے۔  اس اکاؤنٹ کو صرف 100 روپے سے کھولا جا سکتا ہے، اس لیے یہ کم آمدن والے افراد کے لیے ایک اہم انتخاب ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس اکاؤنٹ میں منافع سالانہ 30 جون کو جمع ہوتا ہے اور رقم ایک ہفتے میں صرف تین مرتبہ نکلوائی جا سکتی ہے۔

اس کے مقابلے میں ایچ بی ایل میں ایک نارمل سیونگ اکاؤنٹ پر تقریباً 9 فیصد جبکہ میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹس پر تقریباً 6.74 سالانہ منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے کم از کم رقم 100روپے ہے۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ  کا سمارٹ اکاؤنٹ صفر ابتدائی ڈپازٹ سے کھولا جا سکتا ہے جبکہ یو بی ایل ماہانہ آمدن اکاؤنٹ کے لیے کم از کم 100 روپے کافی ہیں اور نارمل بچت اکاؤنٹ پر منافع کی شرح تقریباً 9 سے 10فیصد ہے۔

ایم سی بی بینک کے سینیئر سٹیزن سیونگ اکاؤنٹ کے لیے کم از کم 100 روپے درکار ہیں اور منافع کی شرح تقریباً 9سے 10فیصد ہے۔ تاہم اس اکاؤنٹ کے لیے عمر کی شرط بھی لاگو ہوتی ہے۔

اسی طرح بینک الفلاح کا بچت اکاونٹ 100 روپے میں کھلوایا جا سکتا ہے اور منافع کی شرح 9.5سے 10فیصد سالانہ ہو سکتی ہے۔

لیکن یہ بات مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ بینکس چیک بک اور اے ٹی ایم کی مد میں چارجز کاٹتے ہیں اس لیے اکثر کم از کم 1000روپے بینک میں ڈپازٹ کروانے کا کہا جاتا ہے۔

 تقریباً تمام اسلامک اور کنونشنل بینکس نارمل بچت اکاؤنٹ پر 20 فیصد ٹیکس کاٹتے ہیں۔

قومی بچت کی کچھ سکیموں پر ٹیکس شرح کم ہے اور بہبود سیونگ سرٹیفیکیٹس پر ٹیکس کی شرح صفر ہے جبکہ منافع کی شرح تقریباً 13فیصد سے زیادہ ہے اور سرمایہ کاری بھی کم از کم 5000سے کی جا سکتی ہے۔ لیکن ان سرٹیفیکٹس میں صرف 60سال سے زائد عمر کے افراد، بیوہ خواتین اور معذور افراد سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

ایزی پیسہ مائیکرو فائنانس بینک 15فیصد ٹیکس کاٹتا ہے اور منافع کی شرح بھی 14فیصد  تک جا سکتی ہے۔ منافع کی یہ شرح نارمل بجٹ اکاؤنٹس پر ہے۔ میوچل فنڈز میں بچت کی شرح مختلف ہے۔ وہاں منافع کی شرح 12سے 15 فیصد  تک بھی ہو سکتی ہے لیکن اس کے لیے رقم زیادہ درکار ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ کنونشنل بینکس میں منافع کی شرح اسلامک بینکس کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

بینکس اپنی انویسٹمنٹ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس میں منافع کی شرح 20فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے لیکن اس میں نقصان ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہو سکتے ہیں اور جمع کروائی گئی رقم میں کمی ہو سکتی ہے۔

کسی بھی بینک میں کھاتہ کھولنے سے قبل اپنی تحقیق مکمل کر لیں۔ یہ کوئی ایک یا دو دن کا معاملہ نہیں لہذا اکاونٹ اس جگہ دیکھ بھال کر کھولیں جہاں سے آپ کو کچھ فائدہ ہوسکے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ