
(احمد منصور )بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مبینہ انتخابی دھاندلی اور ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے تنازع پر احتجاج شدت اختیار کر گیا۔
چیف الیکشن کمشنر کی مبینہ دھاندلیوں کے خلاف کاکروچ پارٹی کا احتجاج ملک گیر مظاہروں میں تبدیل ہوگیا جس کے نتیجے میں دہلی شہر مکمل طور پر مفلوج ہوگیاجہاں دفعہ 163 نافذکردی گئی ہے، عارضی حراستی مراکزقائم کرکے ہر قسم کے اجتماع پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے۔
بھارتی میڈیاکے مطابق ووٹر فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام حذف کیے جانے پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔بھارتی اپوزیشن کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں بی جے پی کا ساتھ دیا ہے،بی بی سی کے مطابق انڈیا کا دارالحکومت اس وقت سکیورٹی کے ایسے غیرمعمولی حصار میں ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، جنتر منتر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں کرفیو نافذکرکے 30 ہزارپولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کردیئے گئے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مظاہرین کو روکنے کیلئے میٹرو اسٹیشن بنداور انٹرنیٹ معطل کردیاگیاہے ، شہری گھروں میں محصورہوکررہ گئے ہیں، ریلویز نے نئی دہلی سے آنےاور جانے والی تمام 245ٹرینیں منسوخ کر دیں،کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے، پارٹی رہنما سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق نیو لانڈری، اسکرول، نو بھارت ٹائمز اور رپورٹر ٹی وی کے صحافی احتجاج کی کوریج کے دوران گرفتار کرلئے گئے، ماہرِ معاشیات ژاں دریژ ، سابق وزیراعلیٰ پنارائی وجین اور متعدد ارکانِ پارلیمان کو بھی احتجاج کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔
دہلی میں مظاہرین اور رہنماؤں پر کیے جانے والے وحشیانہ کریک ڈاؤن کا معاملہ اقوام متحدہ تک جا پہنچا۔اقوام متحد ہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ترجمان الخیتان نے بیان میں کہاہے کہ قانون نافذ کرنے والے محکمے پرامن مظاہرین پر تشدد کرنے سے باز رہیں ۔اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غیر قانونی حراست میں لیے گئے افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیاہے۔
یہ بھی پڑھیں:بارش سے موسم خوشگوار،چھتیں گرنے سے دوافرادجاں بحق،3زخمی
سی جے پی قیادت کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور ووٹر لسٹ تنازع کے حل تک پرامن احتجاج جاری رکھا جائے گا، راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاجی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے تک پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کیاہے۔راہول گاندھی کاکہناہے کہ نریندر مودی، امت شاہ ، گیانیش کمار، اجیت کماردوول کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے،بی جے پی انتظامیہ نے مذاکرات کی بجائے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور تشدد کا راستہ اپنایا۔
پابندیوں اور حراستوں پر کشمیری رہنماؤں نے ردعمل میں کہاہے کہ دہلی کی موجودہ صورتحال نے 2019 کے بعد کے کشمیر کی یاد تازہ کردی۔
سیاسی ماہرین کے مطابق بی جے پی حکومت اپنے ہی تیار کردہ جال میں پھنستی جا رہی ہے،وزیر تعلیم کی طرح یہ احتجاج بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ پر ختم ہو گا ،ملک گیر احتجاج اور اقوام متحدہ کا اظہار تشویش ملکی اور عالمی سطح پر بی جے پی حکومت پر عدم اعتماد ہے۔

