صدر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق ایڈوائس پر دستخط کر دیے

399073 654549845


صدر پاکستان نے اتوار کو وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بھجوائی گئی ایڈوائس پر دستخط کر دیے ہیں۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز دی تھی۔

اس کے بعد اب ایوان صدر سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر آصف زرداری نے خیبر پختونخوا میں کی سلامتی کی صورتحال پر وزیراعظم کی ایڈوائس پر دستخط کر دیے ہیں۔

ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے دستخط کیے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وفاقی کابینہ کے فیصلے، وزیراعظم کی ایڈوائس، متعلقہ اداروں کی امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹس اور حکومتی وفود کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدرِ مملکت نے سمری پر دستخط کیے۔‘

دوسری جانب چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیر جمہوری‘ اقدام قرار دیا ہے۔

بیرسٹر گوہر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایمرجنسی کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی ہے۔

اس سے قبل وفاقی کابینہ نے وزیر اعظم کو تجویز دی تھی کہ ’وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ کریں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق اس ضمن میں ایڈوائس ایوان صدر بھجوائی۔

اس سے قبل اسلام آباد میں اتوار کو وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس سے خطاب میں شبہاز شریف نے کا کہنا تھا کہ ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ ’دہشت گردی کا مقابلہ کرنا وفاق کے ساتھ مل کر اس صوبے (خیبر پختونخوا) کی پولیس، انتظامیہ کا فرض ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بجائے اس کے وہ دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو وہ نہ صرف خاموش ہے بلکہ صورت حال ہر روز مزید خراب ہوتی جا رہی ہے، اور اسلام آباد پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا ہے۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ’کیا آپ بار بار یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو لاچار کرنا چاہتے ہیں؟ یہ نہیں ہوگا قانون اپنا راستہ اپنائے گا اور ہر صورت اپنائے گا۔‘

انہوں نے وفاقی کابینہ کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات میں پانی اب سر سے گزر رہا ہے۔ جو میں نے تصویر کشی کی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ یہ فیصلہ آپ کا ہے تاریخ ہمیں انہی فیصلوں سے یاد رکھے گی۔‘

دوسری جانب اب سے کچھ دیر قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’ہماری ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔‘

سہیل آفریدی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنی آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

’آئین قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ