موسمِ سرما کی آمد پر غزہ اور یوکرین میں انسانی بحران بگڑنے کا خدشہ: اقوام متحدہ

Inquilab 20261010 174159 0000 d


غزہ/کیف: اقوامِ متحدہ نے جمعہ کو خبردار کیا کہ غزہ کے تقریباً تمام 20 لاکھ فلسطینی مناسب پناہ گاہ کے بغیر موسمِ سرما کا سامنا کریں گے۔ یہ انتباہ ایسے وقت آیا ہے جب محصور علاقے پر عائد سخت اسرائیلی پابندیوں کو تین سال مکمل ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب یوکرین میں بھی شہری آبادیوں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے بحران گہرا ہو رہا ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے کہا کہ 18 لاکھ افراد "بارش، سیلاب اور سردی سے مناسب تحفظ کے بغیر چوتھے موسمِ سرما” کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ نصف سے زیادہ خیمے اور عارضی پناہ گاہیں خستہ حال ہیں۔ ادارے نے گزشتہ ماہ غزہ شہر میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ ایک عمارت گرنے کا حوالہ دیا، جس میں 12 بچوں سمیت 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ آئی او ایم کے مطابق موجودہ پناہ گاہی سامان شناخت شدہ ضروریات کا صرف 17 فیصد پورا کرتا ہے، اور تقریباً 8,600 ایمرجنسی شیلٹر کٹس اسرائیلی حکام نے کراسنگ پوائنٹس پر روک رکھی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے الگ سے خبردار کیا کہ بارشوں کے ساتھ بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
یوکرین کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ امورِ انسانی (اوچا) کی کرائسس رسپانس ڈویژن کی ڈائریکٹر جیما کونیل نے سلامتی کونسل کو بریفنگ میں روس اور یوکرین پر زور دیا کہ وہ شہریوں کا تحفظ کریں، امداد کی ترسیل آسان بنائیں اور فرنٹ لائن و مقبوضہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کے محفوظ انخلا کو یقینی بنائیں۔ یہ بریفنگ انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر کی جانب سے دی گئی۔
کونیل نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں ملک بھر میں مزید تباہی اور اموات ہوئیں، جن میں رہائشی محلوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ضروری بنیادی ڈھانچے پر حملے شامل ہیں۔ توانائی کے ڈھانچے پر بار بار حملوں کے باعث کیف سمیت کئی علاقوں میں طے شدہ اور ہنگامی لوڈ شیڈنگ شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "موسمِ سرما کی تیاری کے لیے موسمِ سرما کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔”

متعلقہ پوسٹ