اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹ میں وزارت خارجہ امور میں 9 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان بے ضابطگیوں میں فراڈ، خرد برد، سرکاری خریداری اور ملازمین سے متعلق مالی لاپرواہی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دستاویزات کی تصدیق کے نام پر بھاری فیس وصولی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ دستاویز کی سادہ تصدیق پر 3 ہزار سے 12 ہزار روپے تک وصول کیے گئے، جبکہ بین الاقوامی تصدیق کی فیس اسٹرکچر کی منظوری نہیں لی گئی۔
کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں پاکستانی سفارتی عملے کی جانب سے 27 ہزار 390 امریکی ڈالر کا مبینہ فراڈ سامنے آیا۔ تھرڈ سیکرٹری کی رہائشگاہ کا ماہانہ کرایہ 1,100 ڈالر مقرر تھا، لیکن 2,000 ڈالر ادا کیے جاتے رہے، جس میں سے 900 ڈالر ماہانہ سفارتی عملے کی جیب میں جاتے رہے۔
پیرس میں ایک ہی کیٹیگری کے افسران کی رہائش کے کرائے 3,700 یورو سے 5,300 یورو تک ادا کیے گئے۔ ماہانہ فرق 600 سے 1,600 یورو (بعض مقامات پر 700 سے 1,043 یورو) تک رہا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر ملکی مشنز نے بغیر ہیلتھ انشورنس پالیسی کے 25 لاکھ ڈالر سے زائد پریمئم ادا کیے۔ ہیوسٹن، لاس اینجلس اور شکاگو مشنز نے 2 لاکھ ڈالر سے زائد کے میڈیکل چارجز ادا کیے۔ شکاگو، بیلگریڈ اور لاس اینجلس میں بغیر منظوری بلند ریٹس پر گاڑیاں حاصل کی گئیں۔
1.14 ارب روپے کے فنڈز خلاف ضابطہ نجی بینک اکاؤنٹس میں رکھے گئے۔ کوریئر کمپنیوں کی جانب سے 95 کروڑ روپے بھی نجی اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے۔ لیز پر حاصل گاڑیوں کا 78 ہزار 836 ڈالر اور 35 ہزار یورو کرایہ ادا کیا گیا۔
ریاض اور میلان میں بھی سرکاری فنڈز کے استعمال میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ بیرون ملک مشنز میں افسران سے یوٹیلیٹی چارجز اور سیکیورٹی ڈپازٹس وصول نہ کیے گئے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ملازمین کو خلاف ضابطہ میڈیکل الاؤنس اور ہاؤس رینٹ ادا کیے گئے۔
وزارت خارجہ میں اندرونی کنٹرولز کمزور، ریکارڈ کی عدم دستیابی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات پر عمل درآمد ناقص قرار دیا گیا ہے۔

