صدر آصف علی زرداری کا دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن پر اہم پیغام: آبی ذخائر کا تحفظ قومی سلامتی اور عوامی فلاح کا تقاضا

images 24

اسلام آباد (2 فروری 2026) — صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے دنیا کے آبی ذخائر (ویٹ لینڈز) کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں پاکستان کے آبی ذخائر کے تحفظ اور پائیدار انتظام کے لیے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اس سال دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن کا تھیم "Wetlands and Traditional Knowledge: Celebrating Cultural Heritage” یعنی "آبی ذخائر اور روایتی علم: ثقافتی ورثے کی پاسداری” ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ یہ تھیم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آبی ذخائر محض ماحولیاتی نظام نہیں بلکہ زندہ ثقافتی مناظر ہیں جو صدیوں سے مقامی برادریوں کے علم، تجربات اور محنت سے وجود میں آئے ہیں۔
صدر نے اپنے پیغام میں پاکستان کے متنوع آبی ذخائر—دریائی سیلابی میدانوں، بلند پہاڑی جھیلوں، گلیشیئرز، اندرونی آبی ذخائر اور ساحلی مینگروو ماحولیاتی نظام—کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذخائر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی، پانی کے نظم و نسق اور آفات کے خطرات میں کمی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
صدر زرداری نے سندھ کے آبی ذخائر کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے انڈس ڈیلٹا، مینگرووز، کینجھر، ہالیجی اور منچھر جھیلوں کو درپیش سنگین چیلنجز—پانی کی کمی، سمندر کی سطح میں اضافہ، نمکین پانی کا پھیلاؤ، آلودگی اور خشک سالی—کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذخائر لاکھوں پاکستانیوں کے لیے روزگار، خوراک، مویشیوں کی چراگاہوں اور قدرتی تحفظ کا ذریعہ ہیں۔
انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف پاکستان کے کم کردار مگر شدید متاثر ہونے کی بات کرتے ہوئے آبی ذخائر کو سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کے خلاف دفاع کی پہلی لائن قرار دیا۔ صدر نے پانی کو کسی جبر یا جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرنے کی اپیل کی اور سندھ طاس معاہدہ 1960 کی شفاف اور ذمہ دارانہ تعمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی میں رکاوٹ سے خطے میں اعتماد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
صدر زرداری نے تمام شہریوں، بالخصوص نوجوانوں، مقامی برادریوں اور پالیسی سازوں سے اپیل کی کہ وہ آبی ذخائر کو زندہ ثقافتی اور ماحولیاتی اثاثے سمجھ کر ان کی قدر کریں، تحفظ کریں اور پائیدار طریقے سے منظم کریں۔ انہوں نے کہا کہ "آبی ذخائر کا تحفظ محض ماحولیاتی فریضہ نہیں بلکہ عوامی فلاح، روزگار اور قومی مدافعت کا تقاضا ہے۔”
یہ پیغام پاکستان کی جانب سے رامسر کنونشن کے تحت بین الاقوامی ذمہ داریوں اور ماحولیاتی انصاف کے اصولوں کی پاسداری کا عکاس ہے۔

متعلقہ پوسٹ