اسلام آباد |بیورو رپورٹ محمد سلیم سے
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے پیش نظر پاکستان نے پیر کو پیٹرولیم مارکیٹ کی نگرانی اور ملک میں ایندھن کی بلا تعطل سپلائی یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی کابینہ کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم کی گئی 18 رکنی کابینہ کمیٹی کا پہلا اجلاس وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا، جس میں ایندھن کے ذخائر، سپلائی چین اور قیمتوں کے خطرات کا جامع جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کی ساخت اور لائحہ عمل
18 رکنی کابینہ کمیٹی میں وزرائے پیٹرولیم و بجلی، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پیٹرولیم، بجلی اور خزانہ کے سیکریٹریز، چیئرمین اوگرا، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ریفائنری لمیٹڈ اور انٹر سروسز انٹیلی جنس و انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے شامل ہیں۔
مسلسل نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی روزانہ اجلاس کرے گی جس میں ڈیٹا کے جائزے کے بعد باقاعدہ رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اس طریقہ کار سے بین الاقوامی قیمتوں، ملکی ذخائر، زرمبادلہ اور سپلائی چین کی ریئل ٹائم نگرانی ممکن ہوگی۔
ملکی ذخائر محفوظ
اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی کے مطابق مارچ 2026 تک پاکستان کے پاس پیٹرول اور ڈیزل دونوں کے لیے 28 دن کی کھپت کے برابر ذخائر موجود ہیں جو 21 دن کی لازمی ضرورت سے 7 دن زیادہ ہیں۔
تاہم اجلاس کو بتایا گیا کہ قطر گیس نے ایرانی حملے کے بعد اپنی ایل این جی سہولت بند کردی ہے اور آبنائے ہرمز سے گزر کر کراچی کی طرف آنے والے چند کارگوز کے علاوہ ایل این جی کی سپلائی جلد ممکن نہیں رہے گی۔
وزیر خزانہ کی یقین دہانی
اجلاس کے اختتام پر وزیر خزانہ اورنگزیب نے عوام اور مارکیٹ کو یقین دلایا کہ توانائی کی سپلائی مستحکم ہے، نگرانی کے تمام نظام مکمل فعال ہیں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے جامع ہنگامی منصوبہ بندی فعال طور پر جاری ہے۔
عالمی منڈی پر اثرات
برینٹ کروڈ تیل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کس قدر تیزی سے توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔ دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل روزانہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

