واشنگٹن — ہیومن رائٹس واچ اور فزیشنز فار ہیومن رائٹس کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے ۵۰۰ دنوں میں امریکی امیگریشن حراستی مراکز میں اموات کی تعداد میں ۱۴۰ فیصد کا حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے میں آئی سی ای کی حراست میں ۵۲ افراد جاں بحق ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق آئی سی ای سہولیات میں یومیہ اوسط قیدی آبادی ۴۰ ہزار سے بڑھ کر ۷۱ ہزار سے تجاوز کر گئی، یعنی ۷۷ فیصد اضافہ۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اموات میں اضافے کی وجہ صرف آبادی کا بڑھنا نہیں بلکہ طبی دیکھ بھال میں کمی، ناکافی نگرانی اور بگڑتے حراستی حالات ہیں۔
رپورٹ میں درج المناک مقدمات میں ۴۴ سالہ یوکرینی شہری مکسم چرنیاک شامل ہیں جنہیں حراست میں فالج کا دورہ پڑا اور بروقت علاج نہ ملنے کے باعث وہ چل بسے۔ ۳۲ سالہ لورینزو انتونیو باتریز ورگاس کورونا میں مبتلا ہونے اور دو ہفتے تنہائی میں رکھے جانے کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی والدہ نے کہا: ”صرف وہ ماں جانتی ہے جس نے اپنا بچہ کھویا ہو، میں کیا محسوس کر رہی ہوں۔” اس کے علاوہ افغان سپیشل فورسز کے سابق رکن محمد پکتیاول بھی ٹیکساس میں حراست کے دوران مارچ میں جاں بحق ہو گئے۔
آئی سی ای نے رپورٹ کے نتائج مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کل قیدی آبادی کے مقابلے اموات کی شرح انتہائی کم ہے اور قیدیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

