خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد ایمرجنسی کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

گزٹ نوٹیفکیشن.webp


خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد ایمرجنسی کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا ہے

حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد صدارتی فرمان فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا۔

صدارتی فرمان کے مطابق آئین پاکستان کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ فرمان میں صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور پرتشدد کارروائیوں میں غیر معمولی اضافے کو اس اقدام کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

فرمان کے مطابق دہشت گرد حملوں سے شہریوں کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جبکہ دہشت گردوں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے، سرکاری تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

صدارتی فرمان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں بھی صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی نشاندہی کی گئی، جبکہ موجودہ صورتحال کو صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر قرار دیا گیا ہے۔

فرمان کے مطابق خیبر پختونخوا کی صورتحال صرف صوبے تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے تحت وفاقی حکومت گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دے سکے گی۔ گورنر وفاق کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات اور فرائض انجام دیں گے، جبکہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے مقرر کردہ ادارے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے۔

صدارتی فرمان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑ دیں گے۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان فوری طور پر نافذ العمل ہوگیا ہے، جس کے بعد صوبے کے انتظامی اور حکومتی اختیارات میں بڑی تبدیلی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ