واشنگٹن (ایجنسیاں): امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ اس وقت کیا جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے کی امریکی اپیلوں کو بار بار نظرانداز کیا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس فیصلے سے واشنگٹن اور کیف کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ زیلنسکی صورتِ حال کو درست طور پر نہیں سمجھ رہے اور ریفائنریوں پر حملے جاری رکھ کر وہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹرمپ کے ساتھ قائم ہونے والی خیرسگالی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دوسری جانب زیلنسکی نے ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے اسے غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پوتن کو بلاجواز تحفہ دینے کے مترادف ہے۔
حالیہ مہینوں میں روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں سے روس کے توانائی کے شعبے میں خلل پڑا، جس کے جواب میں ماسکو نے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی لگا دی۔ اس سے ایران سے متعلق جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن کی منڈیوں پر مزید دباؤ پڑا۔ عہدیدار کے مطابق ٹرمپ چاہتے تھے کہ یوکرین یک طرفہ طور پر یہ حملے روک دے کیونکہ ان سے امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں، اور وہ ان حملوں کو یوکرین کے بجلی کے نظام پر روسی حملوں کے برابر نہیں سمجھتے۔
زیلنسکی نے ٹرمپ اور امریکی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو بتایا تھا کہ اگر ماسکو یوکرین کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے روک دے تو کیف بھی روسی ریفائنریوں کو نشانہ بنانا بند کر دے گا۔ جمعہ کو میامی میں آٹھ گھنٹے کے مذاکرات کے دوران وٹکوف اور کشنر نے یوکرینی مذاکرات کاروں کو بتایا کہ ٹرمپ کی پوتن سے بات چیت متوقع ہے اور وہ روسی ڈیزل برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کر سکتے ہیں۔
ایک یوکرینی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ دونوں ایلچیوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر یوکرین نے امریکی درخواستیں نظرانداز کرنا جاری رکھا تو انٹیلی جنس شیئرنگ بند کر دی جائے گی۔ امریکی عہدیدار نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایلچیوں نے صرف یہ زور دیا تھا کہ واشنگٹن ہتھیاروں اور انٹیلی جنس کی فراہمی کے ذریعے یوکرین کا مضبوط شراکت دار ہے۔

