دہلی میں نئی پابندیاں، راہل گاندھی کا سپریم کورٹ تک مارچ کا اعلان

Delhi PTI10 12 2026 000007B scaled 1


نئی دہلی کے منڈی ہاؤس علاقے میں اپوزیشن کے سپریم کورٹ تک مارچ سے قبل سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان دہلی پولیس نے نئی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ٹریفک کے کئی راستوں میں تبدیلی کی گئی ہے اور چھ میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں۔ وہیں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سوموار کو سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی:چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف قومی راجدھانی  میں جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان دہلی ٹریفک پولیس نے نئی ایڈوائزری جاری کی ہے۔

اتوار کی رات جاری کی گئی اس ایڈوائزری کے مطابق، سوموار کی صبح 6 بجے سے ٹریفک کے راستوں میں تبدیلیاں لاگوہوں گی۔

یہ تبدیلیاں دھولا کنواں فلائی اوور، لودھی روڈ فلائی اوور، کناٹ پلیس کے آؤٹر سرکل سمیت کئی دیگر جگہوں  پر لاگو کی جائیں گی۔

ٹریفک کے راستوں میں ان تبدیلیوں کے پیش نظر پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے سفر کی منصوبہ بندی پہلے سے کر لیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

دہلی میٹرو کے اسٹیشن بند

قومی راجدھانی خطے میں ٹریفک پابندیوں کے درمیان سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی میٹرو کے چھ اسٹیشن بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی)کے اسٹیشن بند کرنے کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے اتوار کو دی گئی ہدایت کے بعد سامنے آیا ہے۔ عدالت نے ہدایت دی تھی کہ دہلی میں میٹرو اور ریلوے خدمات معمول کے مطابق جاری رہنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کہا تھا کہ پرامن اور غیر مسلح مظاہرین کو اس وقت تک حراست میں نہیں لیا جا سکتا، جب تک ایسا قانون کے تحت طے شدہ طریقہ کار کے مطابق نہ کیا جائے۔

آج بند کیے گئے میٹرو اسٹیشنوں میں پٹیل چوک، جن پتھ، راجیو چوک، منڈی ہاؤس، سینٹرل سکریٹریٹ اور بارہ کھمبا روڈ شامل ہیں۔

راہل گاندھی کا سپریم کورٹ تک مارچ کا اعلان

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوموار (12اکتوبر)کو سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں، شہری سماجی تنظیموں اور عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مبینہ ’ووٹ چوری‘کے خلاف احتجاج میں شامل ہوں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس مارچ میں الگ الگ سیاسی جماعتوں، جنس، ذات، برادری اور ریاستوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں شامل لوگ چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک میمورنڈم پیش کریں گے، جس میں مبینہ ’ووٹ چوری‘روکنے، اسپیشل انٹینسیو ریویژن(ایس آئی آر)کو روکنے اور گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا،’نریندر مودی، امت شاہ، اجیت ڈوبھال اور موہن بھاگوت ہندوستان کی آواز کو دبا نہیں سکتے۔ یہ بزدل ہمیں ڈرا نہیں سکتے۔ انہیں پیچھے ہٹنا ہی ہوگا۔ ہم سب ساتھ چلیں گے- محبت، بھائی چارے اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ۔ ڈرو مت۔‘

بتادیں کہ دہلی میں گزشتہ 2اکتوبر سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلسل احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

چھ اکتوبر کو اپوزیشن نے پارلیامنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ نکالا تھا۔ اس مارچ کو بیچ راستے میں روک دیا گیا۔ اس کے بعد راہل گاندھی نے آکاش وانی بھون میں آٹھ گھنٹے تک احتجاج کیا، جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

سات اکتوبر کو احتجاج کے دوران پولیس اور اپوزیشن کے ارکان پارلیامنٹ کے درمیان تصادم ہوا۔ ارکان پارلیامنٹ جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

وہیں، 8 اکتوبر کو اپوزیشن نے راج گھاٹ پر خاموش احتجاج کیا۔ یہ گزشتہ دو دنوں کے احتجاجی طریقوں سے الگ تھا۔

دس اکتوبر کو سی جے پی کے احتجاج کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کوتعینات کیا گیا اور سنیچر کو احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی مشہوریوٹیوبر دھرو راٹھی، کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی)کے ابھیجیت دیپکے، سوربھ  داس اور آشوتوش رانکااورپارٹی کی لیگل چیف رتنا سنگھ کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ