بین الاقوامی تنظیموں نے صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کی، پولیس سے  پریس کی آزادی بنائے رکھنے کی اپیل

Delhi PTI10 11 2026 000354A scaled 1 e1791787124118


سکیورٹی اہلکار11اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے کناٹ پلیس علاقے میں ایک شخص کو حراست میں لیتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر سمیت دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران صحافیوں کو حراست میں لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیموں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے ہندوستان کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ پریس کی آزادی کو بنائے رکھے اور صحافیوں کے آئینی حق کا تحفظ کرے۔

نئی دہلی:کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے اتوار (11 اکتوبر) کو دہلی پولیس سے اپیل کی کہ وہ راجدھانی میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کر رہے صحافیوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرے اور سپریم کورٹ کے سامنے حکومت کی جانب سے کرائی گئی اس یقین دہانی پر عمل کرے کہ میڈیا اہلکاروں کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے نہیں روکا جائے گا۔

سی پی جے امریکہ واقع ایک آزاد ادارہ ہے، جو دنیا بھر میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں کو ڈاکیومنٹ کرتا ہے اور پریس کی آزادی کی وکالت کرتا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق، رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر  سمیت دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر تشویش  کااظہار کیا۔

سی پی جے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا،’ دی انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز جیسےمؤقر اخباروں کے صحافی سمیت کم از کم چھ صحافیوں کو دہلی پولیس نے عارضی طور پر حراست میں لیا۔‘

ادارے نے مزید کہا، ’سی پی جے دہلی پولیس سے اپیل کرتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سامنے حکومت کی جانب سے کرائی گئی اس یقین دہانی پر عمل کرے کہ صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے نہیں روکا جائے گا، اور احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔‘

تنظیموں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے ہندوستان کی یہ خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ پریس کی آزادی کو بنائے رکھے اور صحافیوں کے اس آئینی حق کا تحفظ کرے، جس کے تحت وہ بغیر کسی مداخلت کے خبروں کی رپورٹنگ کر سکتے ہیں۔

دیگر تنظیموں نے بھی تشویش کااظہار کیا

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کی تعداد سی پی جے کے مقابلے میں زیادہ بتائی۔ تنظیم نے کہا کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ عوامی احتجاجی مظاہروں کی کوریج کے دوران کم از کم 16 صحافیوں کو ’بے رحمی سے حراست میں لیا گیا۔‘

آر ایس ایف کی فہرست میں بزنس اسٹینڈرڈ، نو بھارت ٹائمز اور رائٹرز سمیت کئی خبر رساں اداروں کے صحافیوں کے نام شامل تھے۔ آزاد صحافی پرنجوئے گہا ٹھاکرتا کا نام بھی اس فہرست میں تھا۔ آر ایس ایف نے احمد آباد اور پونے میں بھی صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کے واقعات کی جانکاری دی۔

پیرس واقع آر ایس ایف صحافیوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں پر نظر رکھتی ہے اور پریس کی آزادی کے لیے مہم چلاتی ہے۔

تنظیم نے کہا، ’عوامی مفاد سے متعلق واقعات کی رپورٹنگ کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ یہ ان کا کام ہے۔ پریس کے خلاف پولیس کی کارروائی ناقابل قبول ہے۔‘

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے بھی دہلی میں صحافیوں، شہری سماج کے ارکان اور وکیلوں کو بڑی تعداد میں حراست میں لیے جانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا۔

تنظیم نے ہندوستانی حکام سے اپیل کی کہ وہ پرامن احتجاج کے حق کا احترام کریں، صبر وتحمل سے کام لیں اور من مانے طریقے سے حراست میں لیے گئے لوگوں کو رہا کریں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفترترجمان تمیم الخیطان نے کہا،’ہندوستانی حکام کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں پرامن مظاہرین کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے صبر وتحمل سے کام لیں۔ یہ ملک کی جمہوری روایات اور انسانی حقوق سے متعلق اس کے عہد و پیمان کے مطابق ہونا چاہیے۔ من مانے طریقے سے حراست میں لیے گئے تمام لوگوں کو فوراً اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔‘

حراست میں لیے جانے کے واقعات

یہ گرفتاریاں 10 اکتوبر کو ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں کے دوران ہوئیں، جن کا انعقاد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کیا تھا۔ مظاہرین ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔

انتظامیہ نے دہلی میں ایسی پابندیاں عائد کیں جنہیں غیر معمولی قرار دیا گیا۔ ان کے تحت 57 میٹرو اسٹیشنوں کے انٹرنس بند کرنے کے احکامات دیے گئے، سینٹرل دہلی میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئیں، شہر آنے والی ٹرینیں رد کر دی گئیں اور دہلی پولیس اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کے 40 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔ احتجاج سے پہلے بیریکیڈ اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت روکنے کے لیے نوکیلی پٹیاں بھی لگائی گئیں۔

پولیس کے مطابق، سنیچر کوتقریباً 4,000 لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی ممتا بنرجی اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی نہا بورا شامل تھیں۔ تاہم، سی جے پی کے 7,000 سے زائد رضاکاروں، کارکنوں اور پرامن شہریوں کو حراست میں لیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔

جنتر منتر کے آس پاس صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ اور ویڈیو میں حراست میں لیے گئے صحافی ان بسوں میں اپنے پریس کارڈ دکھاتے نظر آئے، جن میں حراست میں لیے لوگوں کو لے جایا جا رہا تھا۔

دہلی بھر میں حراست میں لیے جانے کے یہ واقعات سپریم کورٹ کی اس ہدایت کے کئی گھنٹے بعد بھی جاری رہے، جس میں عدالت نے کہا تھا کہ پرامن اور غیر مسلح مظاہرین کو اس وقت تک حراست میں نہیں لیا جا سکتا جب تک ایسا ’قانون کے طے شدہ طریقہ کار‘ کے مطابق نہ کیا جائے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ