کھٹمنڈو — نیپال کے شمالی گورکھا ضلع میں اتوار کی صبح بوڑھی گنڈک ندی میں ملبے سے بھرے اچانک سیلاب سے بھاری تباہی ہوئی ہے۔ سیلاب میں کم از کم 10 افراد بہہ گئے ہیں، جبکہ 35 سے زائد مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق سیلاب نے پین یو، بگر، سلیری اور گھٹی کھولا سمیت مختلف بستیوں میں 35 سے زائد مکانات، تین پکے پل، چار جھولا پل اور ایک زیرِ تعمیر ہائیڈرو پاور پروجیکٹ مکمل طور پر تباہ کر دیے۔ سیکڑوں خوفزدہ دیہاتی جان بچانے کے لیے اونچی پہاڑیوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
گورکھا کے اسسٹنٹ چیف ڈسٹرکٹ افسر نیتر پرشاد شرما نے بتایا کہ سیلاب نے آرو گھاٹ، تری پورا سندری اور سوتی-مانبو کو جوڑنے والے پکے پلوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ دھارچے رورل میونسپلٹی کے وارڈ نمبر ایک اور تین کو جوڑنے والا بیلی برج اور چار جھولا پل بھی تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔
چومنوبری رورل میونسپلٹی کے چیئرمین نیما لاما اور پولیس حکام کے مطابق چومنوبری-3 کے پین یو اور بگر علاقے میں 35 سے زائد گھر زمین بوس ہو گئے۔ جگت، سلیری، دوبھان اور گھٹے کھولا کی بستیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ چوری میں لینڈ سلائیڈنگ سے مویشیوں کے پانچ شیڈ بھی تباہ ہو گئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق خدشہ ہے کہ بوڑھی گنڈک کی معاون ندی سیارل کھولا میں لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی عارضی جھیل کے اچانک پھٹنے سے یہ تباہی آئی۔ گورکھا ضلع انتظامیہ اور پولیس لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ نقصان کی مکمل تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

