حوثی حملوں کے بعد سعودی ہوائی اڈوں پر پروازوں کی معطلی میں توسیع

saudi arilines d


ریاض: حوثیوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ہوائی اڈہ 17 اکتوبر تک بند رہے گا۔
سعودی شہری ہوا بازی کے ادارے نے کہا کہ پروازوں کی معطلی کا مقصد تنصیبات کی حفاظت اور آپریشنل تیاری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری جانچ مکمل کرنا ہے۔ اتوار کو ہوائی اڈے پر تقریباً 99.7 فیصد مقررہ پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے ریاض کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں۔
سعودی حکام کے مطابق ہفتے کو کنگ خالد ہوائی اڈے پر ہوئے حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ اتوار کو ہونے والے ایک اور حملے میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔ مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 14 بتائی گئی ہے۔
حوثیوں نے دمام کے کنگ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی آرمکو کی دو تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی تصدیق باقی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائی میں شامل ہونے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا: “ہم ایسا کر سکتے ہیں، ہم اس پر غور کریں گے۔”
ریاض میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو بڑے ہوائی اڈوں استعمال کرتے وقت انتہائی احتیاط کا مشورہ دیا ہے، جبکہ سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ مملکت اپنے ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا جواب دے گی۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حملے مغربی یمن میں ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر سعودی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ علاقائی کشیدگی اور توانائی کی سپلائی میں خلل کے خدشات کے درمیان پیر کو برینٹ خام تیل 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل 92 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہا۔

متعلقہ پوسٹ