یورپی یونین نے روس پر 1,600 نئی پابندیوں کی منظوری دی

europe union d


برسلز: یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے روس کے فوجی و صنعتی شعبے کو نشانہ بنانے کے لیے تقریباً 1,600 نئی پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فروری 2022ء میں روس یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔
یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ پالیسی کایا کالاس نے کہا کہ نئی پابندیوں میں سے نصف سے زیادہ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی زنجیر سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام روس کے لیے یوکرین کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار تیار کرنا مشکل، سست اور مہنگا بنائے گا۔
نئی فہرست میں 826 روسی کمپنیوں اور 743 افراد کو شامل کیا گیا ہے، جن میں بڑے جہاز سازی ادارے، آبدوز ساز کمپنیاں اور بحری مرمت کی تنصیبات شامل ہیں۔ نئی پابندیوں کے بعد یورپی یونین کی روس سے متعلق پابندیوں کی فہرست تقریباً 3,500 اندراجات تک پہنچ گئی ہے۔
پابندیوں میں متعلقہ افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کرنا، یورپی یونین کے رکن ممالک میں ان کے سفر پر پابندی اور یورپی شہریوں و کمپنیوں کو انہیں براہِ راست یا بالواسطہ مالی وسائل فراہم کرنے سے روکنا شامل ہے۔
یورپی یونین کونسل نے کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور استعمال سے متعلق پابندیوں کے نظام کی میعاد بھی پانچ سال بڑھا کر 30 اکتوبر 2031ء تک کر دی۔ اس نظام کے تحت انفرادی پابندیوں کی میعاد ایک سال کے لیے 30 اکتوبر 2027ء تک بڑھائی گئی ہے۔
فی الحال اس کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق پابندیوں کا دائرہ کار 31 افراد اور چھ اداروں پر لاگو ہے۔ ان کے اثاثے منجمد ہیں اور یورپی یونین کے شہریوں اور کمپنیوں کو انہیں مالی یا اقتصادی وسائل فراہم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ