پی ایم مودی کی سالگرہ کے موقع پر 17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ اتسو‘ کے تحت ایک مہینے تک چلنے والے پروگرام منعقد کیے جانے ہیں۔ ان میں تقریر، مصوری اور ریل بنانے جیسے مقابلے شامل ہیں۔ یہ پروگرام ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب دہلی کے سرکاری اسکولوں میں مڈ-ٹرم اگزام بھی چل رہے ہیں۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ 17 ستمبر کو منانے کے لیے دہلی کے کم از کم 75 سرکاری اسکولوں، جنہیں سی ایم شری اسکول کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، کو اسکول کے احاطے میں دیے روشن کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اساتذہ سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ دسویں جماعت کے ٹاپر طلبہ کے گھروں میں جاکرانہیں آشیرواد (دعائیں) دیں اور وہاں دیا روشن کریں۔
اسکولوں کو ان تمام سرگرمیوں اور پروگراموں کے ویڈیو ریکارڈ کرنے اور ان کی فوٹیج گوگل ڈرائیو پر اپلوڈ کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس پروگرام کے لیے ضروری سامان دہلی کے چھترسال اسٹیڈیم سے اسکولوں تک پہنچایا جا چکا ہے۔
چھترسال اسٹیڈیم سے اسکولوں، خصوصی طور پر 75 سی ایم شری اسکولوں کو، 17 ستمبر کو وزیر اعظم مودی کی سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والے ’آشیرواد کا دیا‘پروگرام کے لیے دیے، روئی اور تیل تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ’سیوا سنکلپ اتسو‘کے تحت 17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک مہینے بھر سالگرہ کی تقریبات منعقد کی جانی ہیں۔ ان میں تقریر، مصوری اور ریل بنانے جیسے مقابلے شامل ہیں۔
خاص بات یہ ہے کہ یہ سرگرمیاں ایسے وقت میں منعقد کی جا رہی ہیں جب اسکولوں میں وسط مدتی امتحانات (م-ٹرم اگزام)جاری ہیں۔
سی ایم شری اسکولوں کو دیےسے متعلق سامان دستیاب کرانے کی ہدایت
دہلی کے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (فزیکل ایجوکیشن اور قومی یکجہتی) کی جانب سے جاری کیا گیا ایک سرکاری میمورنڈم ہاتھ لگا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے ،’ دیا اور اس سے متعلق سامان صرف سی ایم شری اسکولوں کو دستیاب کرایا جائے گا۔ دیگر تمام اسکول 10ویں جماعت کے ٹاپرکے لیے دیے کے سامان کاانتظام اپنے طور پر کریں گے۔‘
میمورنڈم میں 17 ستمبر کے بعد ایک مہینے تک اسکولوں میں کرائی جانے والی سرگرمیوں کا بھی ذکر ہے۔ بی جے پی نے ان تقریبات کا نام ’سیوا سنکلپ اتسو‘ رکھا ہے۔ ان میں تقریر، پینٹنگ اور ریل بنانے کے مقابلے شامل ہیں۔
تاہم، اس خط سے یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سرگرمیاں صرف سی ایم شری کے طور پر نشان زد سرکاری اسکولوں میں ہی منعقد کی جانی ہیں یا راجدھانی کے تمام سرکاری اسکولوں میں۔ تمام سرگرمیوں کو ریکارڈ اور اپلوڈ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
سرکاری اسکول اس وقت سرخیوں میں آئے تھے، جب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے وزیر تعلیم پر استعفیٰ دینے کے لیے دباؤ ڈالنے میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کرنے کے بعد ’اسکول ٹھیک کرو‘مہم کاشروع کیا تھا۔ اس مہم کی بنیادی توجہ دہلی سے باہر سرکاری اسکولوں کی خراب حالت اور بنیادی ڈھانچے پر رہی ہے، نہ کہ اسکولوں کے اندر تعلیم کے نام پر ہونے والی سرگرمیوں پر۔
تاہم، سرکاری اسکولوں کو تقریبات کے مقامات میں تبدیل کیے جانے کے حوالے سے تعلیمی میدان کے ماہرین پہلے بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ این سی ای آر ٹی کے سابق ڈائریکٹر اور ماہر تعلیم کرشن کمار نے اس سلسلے میں لکھا ہے؛
ایک اور سینئر خاتون ٹیچر نے استعفیٰ دے دیا، کیونکہ ان سے کرایا جانے والا اضافی کام ان کی توجہ پڑھائی سے ہٹا رہا تھا اور ان پر کافی بوجھ ڈال رہا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے اسکول، جو ایک کیندریہ ودیالیہ ہے، میں اساتذہ اب ایونٹ منیجر بنتے جا رہے ہیں۔ اوپر سے الگ الگ مواقع کو منانے کے احکامات آتے ہیں اور ان احکامات کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ پروگرام کی تصویریں اپلوڈ کرکے یہ ثابت کیا جائے کہ حکم پر عمل کیا گیا ہے۔ پرنسپل ان اساتذہ کو پسند کرتے ہیں جو پروگرام کے دنوں میں اسکول کو بخوبی سجانے سنوارنے اور پروگرام کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں۔
اسکول سرکاری پروگراموں کے لیے استعمال ہونے والے مقامات بن گئے ہیں؟
ہندو روایت میں بن واس کے بعد رام کی ایودھیا واپسی کی یاد میں دیے جلانے کی روایت ہے، جو سالانہ دیوالی کی تقریبات کا حصہ ہے۔ تاہم، نریندر مودی کے اقتدارمیں ریاست کی جانب سے ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح کے موقع پر بھی لوگوں سے دیے جلانے کی اپیل کی گئی۔ اس کے علاوہ دیوالی کے چند دن بعد وارانسی میں ’دیو دیپاولی‘کے انعقاد کو بھی بڑے پیمانے پر بڑھاوادیا گیا، جس میں گھاٹوں پر لاکھوں دیے جلائے جاتے ہیں۔
سرکاری پروگراموں کے لیے اسکولوں کا استعمال پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ یہ صورتحال سی جے پی (سی جے پی) کی ’اسکول ٹھیک کرو‘مہم میں سامنے آنے والی تصویروں سے الگ ہے۔
اس سال کی شروعات میں دہلی کے کم از کم 72 سرکاری اسکولوں کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ تنظیموں کی جانب سے لال قلعے میں منعقد ایک قبائلی برادری کے کنونشن میں شرکت کرنے والے نمائندوں کے قیام کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اس پروگرام کے کلیدی مقرر تھے۔
کئی آدی واسی تنظیموں اور کارکنوں نے اس کنونشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کنونشن کے پس پردہ بنیادی نظریہ آدی واسی مخالف ہے۔‘
اس وقت دہلی کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کیے گئے ایک سرکاری خط میں کہا گیا تھا،’مجاز اتھارٹی نے جن جاتی سرکشا منچ کو 21 مئی سے 25 مئی تک نشان زد کیے گئے 72 اسکولوں میں نمائندوں اور مہمانوں کے قیام کا انتظام کرنے کی اجازت دی ہے۔‘
انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

