ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سابق نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر اور نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کے ایک گروپ نے ہراساں کیا، جس کے بعد ڈھاکہ نے قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق محمد یونس دوحہ سے قطر ایئرویز کی پرواز کے ذریعے نیویارک پہنچے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں وہیل چیئر پر بیٹھے یونس کے قریب آ کر مظاہرین نے نعرے لگائے، انہیں ’’دہشت گرد‘‘ کہا اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔ بعد ازاں سیکورٹی اہلکاروں نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
وزیراعظم کے انفارمیشن ایڈوائزر ڈاکٹر زاہد الرحمان نے واقعے کو ’’عوامی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی اقدام کرے گی۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کا نیویارک میں مقیم مشن مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کر کے ملزمان کی شناخت اور قانونی کارروائی کی کوشش کرے گا۔
وزارت خارجہ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بنگلہ دیش اور اس کے شہریوں کی عالمی سطح پر تصویر متاثر ہوئی ہے۔ نیشنل سٹیزن پارٹی کے رہنما ناہید اسلام اور جماعتِ اسلامی کے رہنما ڈاکٹر سید عبداللہ محمد طاہر نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی اور اسے محمد یونس کے ساتھ ہی نہیں بلکہ پورے بنگلہ دیش کی توہین قرار دیا۔

