اسلامی ممالک اپنی سرزمین کسی مسلم ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں: ایرانی صدر


ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ کسی بھی اسلامی ملک کو اپنی سرزمین کسی دوسرے اسلامی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا دفاع کرنے کا مطلب پڑوسی یا مسلم ممالک کے خلاف دشمنی نہیں ہے۔
صدر پزشکیان نے یہ بیان تہران میں منعقدہ۴۰؍ ویں بین الاقوامی اسلامی اتحاد کانفرنس کے دوران، سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اسلامی ملک کو اپنے پڑوسیوں کی عدم تحفظ کے ذریعے اپنی سلامتی تلاش نہیں کرنی چاہیے۔
امریکہ کے ساتھ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، عین اسی دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع کر دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں ایرانی کمانڈرز، افسران، سائنسدان، طلباء، اسکول کے بچے اور شہری مارے گئے، جبکہ شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا، حالانکہ اسی مہینے ایران-امریکہ مذاکرات سفارتی حل کے لیے دوبارہ شروع ہوئے تھے۔
ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق، عراق، پاکستان، ترکی، لبنان اور افغانستان سمیت۴۰؍ ممالک سے تقریباً۶۰۰؍ ملکی و غیر ملکی مہمان اس کانفرنس میں شریک ہیں۔ کانفرنس اتوار تک جاری رہے گی، جس کے پروگرام تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گے، جبکہ مغربی آذربائیجان، کردستان، گلستان اور رضوی خراسان صوبوں میں چار خصوصی اجلاس بھی طے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر کا یہ بیان حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے تناظر میں سامنے آیا، جو خطے کے دیگر اسلامی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے کیے گئے تھے، جس کے جواب میں ایران نے ان ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔

متعلقہ پوسٹ