سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی رہائش پر دہلی پولیس کا ایک افسر۔ فوٹو : پی ٹی آئی
دہلی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کو نوٹس دے کر16 اکتوبر کو مجوزہ ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ نہ نکالنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ مارچ پارٹی رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف بلایا گیا ہے۔ دریں اثنا، این ڈی ایم سی نے کناٹ پلیس واقع سینٹرل پارک کو دو دن بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئی دہلی: دہلی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے کی رہائش پر پہنچ کر انہیں نوٹس دیا ہے۔ حکام کے مطابق، نوٹس میں انہیں مجوزہ ترنگا مارچ نہ نکالنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دیپکے کی جانب سے 16 اکتوبر کو شام پانچ بجے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ نکالنے کی اپیل کی ہے۔
یہ مارچ پارٹی رہنماؤں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو حراست میں لیے جانے کے خلاف بلایا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کو جنتر منتر پہنچ کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کی مانگ کرتے ہوئے نعرے لگانے اور ترنگا لہرانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔
اس معاملے کو لے کر سی جے پی اور دہلی پولیس کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ جنتر منتر کو اب مقررہ احتجاجی مقام کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی کے بعد پارٹی نے کناٹ پلیس میں مارچ نکالنے کا اعلان کیا۔
کناٹ پلیس میں امتناعی احکامات، لوگوں سے اکٹھا نہ ہونے کی اپیل
دہلی پولیس نے لوگوں سےمجوزہ مارچ میں شامل ہونے کے لیے کناٹ پلیس نہیں آنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کے مطابق، کناٹ پلیس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ ہیں۔ ان ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ قومی پرچم پھہرانے اور قومی ترانہ گانے کے لیے منتخب لوگوں کو کسی مناسب مقام پر اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس کا فیصلہ پولیس کرے گی۔
پولیس نے احتجاج کے لیے رام لیلا میدان، براڑی میدان اور سی بی ڈی میدان کے متبادل بھی دیے ہیں۔ ان جگہوں پر ضروری اجازت حاصل کرنے کے بعد احتجاج کیا جا سکتا ہے۔
ان متبادل جگہوں پر سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پوچھا، ’اگر ہم 100 جگہوں کے ناموں کا اعلان کر دیں، تو کیا نریندر مودی ان تمام 100 جگہوں کو بند کر دیں گے؟ دہلی پولیس کو ترنگا لہرانے سے کیا پریشانی ہے؟‘
سینٹرل پارک دو دن بند، کئی سڑکوں پر سکیورٹی بڑھائی گئی
نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے انتظامی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سینٹرل پارک 16 اور 17 اکتوبر کو عام لوگوں کے لیے بند رہے گا۔ کونسل نے پارک میں غیر مجاز داخلے کو روکنے کے لیے سکیورٹی انتظامات کرنے کو بھی کہا ہے۔
مارچ کے مدنظر کناٹ پلیس اور جنتر منتر میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس نے کئی اہم جگہوں پر جوان تعینات کیے ہیں۔ مظاہرین اور عام لوگوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے لیے بیریکیڈنگ بھی کی گئی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں پارلیامنٹ اسٹریٹ، جن پتھ، بارہ کھمبا روڈ، کستوربا گاندھی مارگ، تلک مارگ، منڈی ہاؤس اور اشوک روڈ سمیت کئی سڑکیں شامل ہیں۔ پولیس نے لوگوں کو ان علاقوں میں آمد ورفت کے دوران محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کے الزامات پر تحریک
سی جے پی نے ایس آئی آرکے دوران ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے اپنے نظریاتی اختلافات کو بھلا کر اس تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
دیپکے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پولیس انہیں رات میں یا اگلی صبح گرفتار کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا،’اگر اس ملک میں ترنگا لہرانے کے لیے جیل جانا پڑے، تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘
پارٹی رہنماؤں کی گرفتاری اور جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے بعد سی جے پی نے اس مارچ کو اپنی احتجاجی مہم کے اگلے قدم کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہیں، دہلی پولیس نے امن و امان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے لوگوں سے مجوزہ مارچ سے دور رہنے کو کہا ہے۔

