’حوثی حملے بند کیے جائیں‘: پاکستان کی سعودی عرب کے حقِ دفاع کی حمایت

399196 1173021469


پاکستان اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے جمعرات کو سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سکیورٹی اوراس کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

حالیہ دنوں میں سعودی عرب مسلسل حوثیوں کے حملوں کی زد میں آیا ہے، جن میں دارالحکومت ریاض کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیے جانے والے متعدد حملے بھی شامل ہیں۔

یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے جمعرات کو بتایا تھا کہ حوثیوں نے یکم اکتوبر سے اب تک ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 20 حملے کیے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد جان سے گئے تھے جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق مشرق وسطیٰ پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل  کے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ ’یہ حملے فوری طور پر رک جانے چاہییں۔‘

انہوں نے کہا: ’یمن میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ پاکستان سعودی عرب، بشمول اس کے شہری اور معاشی بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔

’یہ حملے فوری طور پر رک جانے چاہییں۔ ہم برادر مملکت کی سکیورٹی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور کسی بھی بیرونی حملے کے خلاف بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے اپنے دفاع کے حق کی توثیق کرتے ہیں۔‘ 

پاکستانی سفارت نمائندے نے یمن میں پرامن تصفیے کی کوششوں کے لیے اسلام آباد کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے یمن میں جامع اور دیرپا امن کے حصول کی غرض سے مذاکرات کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔

سلامتی کونسل کی جانب سے بھی سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب پر یمن کی حوثی ملیشیا کے ’کشیدگی بڑھانے والے‘ حملوں کی مذمت کی گئی، جن میں ریاض کے ایئرپورٹ پر ’غیر ذمہ دارانہ حملے‘ بھی شامل ہیں۔ 

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سکیورٹی کونسل کے صدر، یونان کے ایوینجیلوس سیکیرس کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں، اقوام متحدہ کے 15 رکنی ادارے نے ’مملکت سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے مسلسل اور کشیدگی بڑھانے والے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی‘ اور اس کے ساتھ ساتھ ’بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں اور دھمکیوں‘ کی بھی مذمت کی۔ 

بیان میں ’بین الاقوامی قانون کے مطابق مملکت سعودی عرب کے اپنے دفاع کے بنیادی حق‘ کی بھی توثیق کی گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی فوجی اتحاد نے جمعرات کو بتایا تھا کہ اس نے اسلام کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک، مدینہ کے علاقے میں ایک میزائل کو فضا ہی میں تباہ کر دیا ہے۔ حوثیوں نے، جو بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اسلام کے مقدس مقامات کو نشانہ نہیں بنائیں گے، اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی۔

حوثیوں نے جمعرات کو یمنی حکومت کے عبوری دارالحکومت عدن میں صدارتی محل پر بھی جان لیوا میزائل حملہ کیا، جس میں احاطے کے اندر موجود ان کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا جو سرکاری فورسز اور ان کی حمایت کرنے والے سعودی فوجی اتحاد کے زیر استعمال تھے۔

یمن کے وزیر صحت قاسم بحیبح نے بتایا کہ اس حملے میں ’مقام کی حفاظت پر مامور اہلکاروں اور شہری ملازمین میں سے‘ پانچ افراد جان سے گئے اور 16 زخمی ہوئے۔

مشرق وسطیٰ کی اس وسیع تر جنگ کے چند ماہ بعد جس نے خطے کو ہلا کر رکھ دیا اور توانائی کی ترسیل اور منڈیوں کو درہم برہم کر دیا، اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہونے پر جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔

ملک میں جاری تنازعے نے اس صورت حال کو جنم دیا ہے جسے اقوام متحدہ دنیا کا ایک بدترین انسانی بحران قرار دیتی ہے، جس کے باعث ملک کی بیشتر آبادی امداد کی محتاج ہو گئی ہے۔

2015 میں حوثیوں کی جانب سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو شہر سے بے دخل کرنے کے بعد، سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی تک ان کے خلاف جنگ لڑی ہے۔

غزہ کے حالات پر پاکستان کو تشویش

مشرق وسطیٰ پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل  کے مباحثے سے خطاب میں پاکستان نے مغربی کنارے میں آباد کاروں کا تشدد روکنے اور مقبوضہ فلسطینی علاقے کو ضم کرنے کی کوششیں ترک کرنے کے مطالبے کی بھی حمایت کی۔

قائم مقام پاکستانی مندوب عثمان جدون کا کہنا تھا کہ ’مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع، خاص طور پر ای ون پراجیکٹ، فلسطینی علاقوں کے تسلسل کو منقطع کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔ آباد کاروں کا تشدد، مسماری، زمینوں پر قبضے اور جبری بے دخلی الحاق کو مستحکم اور امن کی بنیادوں کو تباہ کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آباد کاری کی تمام سرگرمیاں بند ہونی چاہییں، آباد کاروں کا تشدد روکا جانا چاہیے اور احتساب کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘

ای ون منصوبے کی اسرائیل نے گذشتہ سال منظوری دی تھی اور یہ مغربی کنارے سے مشرقی یروشلم کو مزید الگ کر دے گا، جس پر اسرائیل نے قبضہ اور الحاق کر رکھا ہے اور جہاں زیادہ تر فلسطینی آباد ہیں۔

عثمان جدون نے مزید کہا کہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی حمایت کے ساتھ ساتھ فلسطین کی علاقائی سالمیت اور بقا کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات بھی ہونے چاہییں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ