کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں کاکروچ جنتا پارٹی کے ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے قبل پالیکا بازار کے گیٹ نمبر ایک کے باہر تعینات پولیس اہلکار اور سکیورٹی عملہ۔ تصویر: پی ٹی آئی
’لہرا دو ترنگا‘ احتجاجی مظاہرہ کے ایک دن بعد سنیچر کو بھیڑ جمع ہونے سے روکنے کے لیے اشوک روڈ اور جئے سنگھ روڈ پر اضافی بیریکیڈ لگائے گئے ہیں۔ بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کے تحت نئی دہلی کے علاقے میں لوگوں کے اکٹھا ہونے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ دہلی پولیس ہیڈکوارٹر اور الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے باہر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
نئی دہلی: راجدھانی میں ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاجی مظاہرہ کے ایک دن بعد سنیچر (17اکتوبر) کو بھی سینٹرل دہلی میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی دیکھی جارہی ہے۔ جنتر منتر پر بیریکیڈ لگے ہوئے ہیں اور دہلی پولیس و الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے باہر اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ بائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے نئے سرے سے احتجاجی مظاہرہ کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی بڑھائی گئی ہے۔
جمعہ کو ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاج کے لیے تقریباً 2,000 لوگ کناٹ پلیس اور اس کے آس پاس جمع ہوئے تھے۔ اب تک شہر میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) یا کانگریس کی جانب سے کسی بڑے احتجاج کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق، جنتر منتر پر اب بھی بیریکیڈ لگے ہوئے ہیں، حالاں کہ جنتر منتر اب احتجاج کے لیے مخصوص مقامات کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ وہاں داخلے اور باہر نکلنے کے تینوں راستوں پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ ان میں اشوک روڈ کے گول چکر کے قریب واقع راستہ اور ٹالسٹائے مارگ اور سنسد مارگ پر واقع د راستے شامل ہیں۔
اخبار نے ایک افسر کے حوالے سے بتایا کہ بھیڑ جمع ہونے سے روکنے کے لیے اشوک روڈ اور جئے سنگھ روڈ پر بھی اضافی بیریکیڈ لگائے گئے ہیں۔ بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت نئی دہلی کے علاقے میں لوگوں کے اکٹھے ہونے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

دہلی پولیس ہیڈکوارٹر اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ہیڈکوارٹر کے باہر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس کو جانکاری ملی ہے کہ کچھ بائیں بازو کی تنظیمیں پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر ’خواتین مارچ‘نکال سکتی ہیں۔ ان تنظیموں کا الزام ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس نے جنسی تشدد کیا۔
افسر نے کہا،’اپنی خفیہ ونگ کے اہلکاروں کے ذریعے ہمیں پتہ چلا ہے کہ بائیں بازو کے کچھ گروپوں نے پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر مارچ نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ چونکہ نئی دہلی کے علاقے میں کسی کو بھی احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی ہے، اس لیے سینٹرل دہلی میں کہیں بھی لوگوں کو جمع ہونے نہیں دیا جائے گا۔ اچانک ہونے والے کسی بھی احتجاج سے نمٹنے کے لیے ہمارا سکیورٹی انتظام تیار ہے۔‘
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ دہلی پولیس کے پاس پورے شہر میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے سینٹرل آرمڈ پیرا ملٹری فورسز (سی اے پی ایف) کی 200 سے زیادہ کمپنیاں دستیاب ہیں۔ ان دستوں میں تقریباً 20,000 خواتین اور مرد اہلکار شامل ہیں۔
سی اے پی ایف کی سب سے بڑی تعیناتی سینٹرل دہلی میں کی گئی ہے۔ خصوصی طور پر جنتر منتر، سنسد مارگ، الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر اور کناٹ پلیس کے آس پاس بڑی تعداد میں اہلکار تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی) گیانیش کمار اور دیگر اہم وزرا کی رہائش گاہوں کے باہر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ شہر میں احتجاجی مظاہروں اور مارچ سے نمٹنے کے لیے دہلی پولیس کے تقریباً 10,000 اہلکاروں کو بھی ریزرو میں رکھا گیا ہے۔
جمعہ کی شام کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاجی مظاہرہ کے لیے تقریباً 2,000 لوگ کناٹ پلیس اور اس کے آس پاس جمع ہوئے۔ یہ احتجاج شام پانچ بجے سینٹرل پارک میں منعقد ہونا تھا، تاہم پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس کے باوجود کسی بھی احتجاج کے خدشے کے پیش نظر جمعرات سے ہی کناٹ پلیس اور آس پاس کے علاقوں میں دہلی پولیس اور سی اے پی ایف کے اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کر دی گئی تھی۔
جمعہ کی دوپہر تک سینکڑوں سکیورٹی اہلکاروں نے سینٹرل پارک کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور پارک کے تمام داخلی دروازے بند کر دیے تھے۔
پارک کے باہر، خصوصی طور پر سی اے پی ایف کے تقریباً 200 جوانوں نے اس کے چاروں طرف ہیومن چین بنا لی۔ شام پانچ بجے کے بعد جب مظاہرین چھوٹے چھوٹے گروپوں میں کناٹ پلیس کے انر سرکل کے آس پاس مارچ کرنے لگے، تب یہ انتظام کیا گیا۔ سینئر پولیس افسران نے فٹ پاتھوں پر فلیگ مارچ بھی کیا اور احتجاجی مقام کے آس پاس لوگوں کی آمد و رفت محدود کر دی۔ اس دوران صحافیوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندیاں لگائی گئیں۔
ایک اور پولیس افسر نے کہا،’کسی بھی احتجاج کو روکنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کناٹ پلیس میں پولیس کی تعیناتی اب بھی جاری ہے، کیونکہ آج بازار کھلے ہوئے ہیں۔‘

