سات اکتوبر 2026 کو بنگلورو میں کرناٹک پردیش یوتھ کانگریس کمیٹی (کے پی وائی سی سی) کی ریلی کے دوران چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کا مکھوٹا لگائےیوتھ کانگریس کا ایک کارکن۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
سنیکت کسان مورچہ کے بینر تلے کسان 23 اکتوبر کو دہلی کوچ کریں گے۔ وہ ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے۔ کسان سبھا نے 26 نومبر سے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے کے خلاف بڑے پیمانے پر تحریک چلانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
نئی دہلی: سنیکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) کے بینر تلے مختلف کسان تنظیمیں 23 اکتوبر کو دہلی کوچ کریں گی۔ کسان ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس مطالبے کی حمایت میں کسان ملک بھر کے تمام ضلع، تحصیل اور بلاک ہیڈکوارٹروں پر بھی بیک وقت مظاہرے کریں گے۔
جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سنیکت کسان مورچہ کے سینئر رہنما اور آل انڈیا کسان سبھا (اے آئی کے ایس) کے صدر اشوک دھولے نے یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر کے آس پاس مظاہروں پرلگی پابندیوں کے باوجود کسان بڑی تحریک کے لیے تیار ہیں۔
دی ہندو کے مطابق، دھولے نے کہا،’ایس آئی آر کے خلاف یہ سب سے بڑی جدوجہد میں سے ایک ہونے جا رہی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ کسان جبر سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ حکام کو چیلنج کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’وہ جو کرنا چاہتے ہیں، کرنے کی ہمت کریں۔‘
دھولے کے مطابق، اس مظاہرے میں طلبہ، نوجوان، خواتین، شہری سماج کی تنظیمیں اور ٹریڈ یونینوں کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔
پندرہ سے اٹھارہ نومبر تک نلگونڈہ میں کسان سبھا کی کانفرنس
اشوک دھولے اور اے آئی کے ایس کے جنرل سکریٹری وجو کرشنن نے کسان سبھا کی 36ویں آل انڈیا کانفرنس کا لوگو بھی جاری کیا۔ یہ کانفرنس 15 سے 18 نومبر تک تلنگانہ کے نلگونڈہ میں منعقد ہوگی۔
رہنماؤں نے بتایا کہ کانفرنس کے لیے نلگونڈہ کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ تاریخی تلنگانہ مسلح کسان جدوجہد کا مرکز رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسان سبھا کے 90 سال پورے ہونے کے ساتھ ہی یہ دنیا کی سب سے بڑی کسان تنظیم بن چکی ہے، جس کے ارکان کی تعداد ایک کروڑ 58 لاکھ سے زیادہ ہے۔ تنظیم نے سامراجیت اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کی اپنی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔
رہنماؤں نے تلنگانہ، تِبھاگا، وارلی آدی واسی، پُنپرا-وایالار اور سرما وادی کی تحریکوں سمیت کسانوں کی جدوجہد کی روایت کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، ان تحریکوں سے تحریک حاصل کرتے ہوئے کسان سبھا نو لبرل معاشی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت منظم کرنے کے لیے تحریک چلا رہی ہے۔
کانفرنس میں یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے لیے دیگر کسان تنظیموں کے رہنماؤں کو بھی خطاب کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
چھبیس نومبر سے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے کے خلاف تحریک
دھولے نے بتایا کہ سنیکت کسان مورچہ نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے کی مخالفت میں 26 نومبر سے اور بڑے پیمانے پر مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، کسان سبھا کی قومی کانفرنس مختلف کسان تنظیموں کو متحد کرنے اور کسانوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے خلاف مشترکہ تحریک تیار کرنے کا پلیٹ فارم بنے گی۔
دھولے نے کہا کہ کئی آزاد تجارتی معاہدے اور ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدہ ہندوستانی کسانوں کو بھاری سرکاری سبسڈی پانےوالی کارپوریٹ زراعت اور اس کی پیداوار کے مقابل لا کھڑا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ درآمدی محصولات کے بغیر غیر ملکی زرعی مصنوعات کی ہندوستان میں آمد سے گھریلو منڈی میں قیمتیں گر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے کسان، ڈیری مصنوعات تیار کرنے والے، باغبانی کرنے والے، ماہی گیر اور ماہی گیری کی صنعت سے منسلک مزدور متاثر ہوں گے۔ دھولے کے مطابق، ایسے معاہدے ہندوستانی کسانوں اور دیہی غریبوں کے روزگار اور معاش کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں اور ملک کی زراعت کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

