ایران نے اپنے اعلیٰ رہنما علی لاریجانی کی ہلاکت کے بعد بدلے کے طور پر خلیجی عرب ممالک اور اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے کیے ہیں۔
بدھ کے روز کیے گئے ان حملوں میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایسے میزائل استعمال کیے گئے جو فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیلی شہر تل ابیب کے قریب حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں اسرائیل نے ایران نواز تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
دارالحکومت بیروت میں رہائشی عمارتوں پر بمباری کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جان سے گئے۔
دوسری جانب ایران کے اہم ایٹمی مرکز بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر بھی میزائل حملہ کیا گیا، تاہم آئی اے ای اے کے مطابق اس حملے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی تنصیب کو نقصان پہنچا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جو جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً 40 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایران خلیجی ممالک کے توانائی ڈھانچے اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ عالمی دباؤ میں اضافہ کیا جا سکے۔
ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت بھی مضبوط کر لی ہے، جبکہ سعودی عرب کے مشرقی علاقے اور اہم تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے کویت، بحرین، قطر اور یو اے ای میں بھی ڈرون اور میزائل کے ساتھ حملے کیے ہیں۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے بتایا کہ دبئی کے قریب آسٹریلوی فوجی اڈے پر میزائل گرنے سے آگ بھڑک اٹھی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سعودی عرب نے پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب آنے والے بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے ایرانی میزائل تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے بھاری بمباری کی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے جدید ملٹی پل وارہیڈ میزائلوں کے ذریعے وسطی اسرائیل کو نشانہ بنایا، جو ریڈار اور دفاعی نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسی دوران ایران کی عدلیہ نے موساد کے لیے مبینہ جاسوسی کرنے والے ایک شخص کو سزائے موت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

