پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مجبوری میں لیا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کو گوجرانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس دو راستے تھے، یا تو خاموش تماشائی بن کر تباہی دیکھتے رہتے یا پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرتے۔‘
وفاقی حکومت نے رواں ماہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا جسے بعد میں پارلیمان اور سینیٹ سے بھی منظور کر لیا گیا۔
اس بارے میں پاکستان کے وزیر اعظم نے بات کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں اس وقت ایمرجنسی مجبوری میں لگائی گئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پہلے وزیراعلیٰ تھے، ان کے ساتھ بھی میری ایک سے زیادہ نشستیں ہوئیں، اور ایمرجنسی لگنے کے پہلے جو وزیراعلیٰ تھے ان کے ساتھ بھی میری ایک سے زیادہ میٹنگز ہوئیں اور ہر بار یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ یہ خطہ پاکستان کا ایک خوبصورت حصہ ہے، جہاں عوام کو مسائل اور سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’خاص طور پر افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، جو بدقسمتی سے 2018 میں دوبارہ شروع ہوا۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’اس کے خاتمے کے لیے ہم مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے اور اپنی حکومت کی جانب سے تمام ضروری وسائل اور بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔
’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کیں، مگر اس کے باوجود آئے روز دھرنے اور لانگ مارچ ہوتے رہے۔‘
وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس دو راستے تھے، یا تو خاموش تماشائی بن کر تباہی دیکھتے رہتے یا پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرتے۔ اگر ہم مجرمانہ غفلت کرتے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کرتیں، اس لیے مجبوراً یہ فیصلہ کرنا پڑا۔‘

