فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد، لوٹ مار اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سب غصہ اور شرمندگی محسوس کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے پُرامن مظاہرین کے جائز مطالبات اور تشدد میں ملوث افراد کے درمیان واضح فرق رکھنے پر زور دیا۔
ٹیلی ویژن خطاب میں میکرون نے کہا کہ فرانسیسی شہریوں کی جانب سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچانے کے مناظر ناقابلِ قبول ہیں اور پوچھا: ’’فرانس کے لوگ فرانس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ کچھ بھی تشدد، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کو جائز نہیں ٹھہرا سکتا۔
۱۷ اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ساڑھے ۵ لاکھ افراد شریک ہوئے، جبکہ منتظمین نے شرکت کرنے والوں کی تعداد ۸ لاکھ بتائی۔ طلبہ کی جانب سے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور خراب سہولتوں کے خلاف شروع ہونے والی تحریک بعد ازاں مہنگائی اور معاشی نابرابری کے خلاف وسیع احتجاج میں تبدیل ہو گئی۔
مظاہروں کے دوران پیرس، مارسی، لیون، بورڈو، رین، اسٹراسبرگ، گرینوبل اور نیس سمیت کئی شہروں میں دکانوں کی لوٹ مار، گاڑیوں اور عمارتوں میں آتش زنی اور پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ وسطی فرانس کے شہر لیوموج میں تاریخی سٹی ہال میں آگ لگنے سے عمارت کا بڑا حصہ متاثر ہوا اور چھت کا حصہ گر گیا۔
فرانسیسی حکام کے مطابق تشدد اور لوٹ مار کے بعد ملک بھر میں تقریباً ۲,۴۰۰ افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ تقریباً ۱,۰۰۰ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ میکرون نے کہا کہ لوٹ مار کرنے والے نقصان کی معاوضہ ادائیگی کریں گے اور جمہوریہ کو گرانے کی کوشش کرنے والوں سے جواب طلب کیا جائے گا۔
صدر نے خطاب سے قبل اعلیٰ حکام کے ساتھ ہنگامی اجلاس کیا اور احتجاج سے قبل انٹیلی جنس، پولیس کی تیاری اور حفاظتی انتظامات میں کسی خامی کے جائزے کی ہدایت دی۔ انہوں نے مقامی حکام کو ضرورت پڑنے پر بعض اجتماعات پر پابندی لگانے کے اختیارات دینے کی بھی بات کی۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے پُرامن احتجاج کے حق کی حمایت کی، لیکن تشدد اور لوٹ مار کی مذمت کی۔ دائیں بازو کے رہنماؤں نے امن و امان کی صورت حال پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ بائیں بازو نے معاشی شکایات اور پولیس کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے۔
میکرون کے لیے یہ بحران ایسے وقت میں آیا ہے جب فرانس معاشی دباؤ، بجٹ کے مسائل اور سیاسی اختلافات سے دوچار ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ حکومت مجرموں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ تعلیمی سہولتوں اور زندگی کے بڑھتے اخراجات سے متعلق عوامی شکایات کا حل پیش کرتی ہے

