برطانوی وزیراعظم نے نوجوانوں کی بے روزگاری کو ’معاشی تباہی اور اخلاقی ناکامی‘ قرار دیا

uk 201026 d


لندن: برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ تقریباً 10 لاکھ نوجوانوں کا تعلیم، روزگار اور تربیت سے دور رہنا ملک کے لیے ’’معاشی تباہی اور اخلاقی ناکامی‘‘ ہے، جسے تبدیل کرنا ضروری ہے۔
’دی ٹائمز‘ میں لکھے گئے مضمون میں برنہم نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں کی کامیابی میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ فلاحی نظام کے ذریعے ناکامی کی قیمت ادا کی جائے۔ ان کے مطابق سرکاری مالی امداد ’’آخری سہارا‘‘ ہونی چاہیے، پہلا قدم نہیں۔
برطانوی دفتر برائے قومی شماریات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اپریل تا جون 2026 کے دوران 16 سے 24 سال کی عمر کے تقریباً 981,000 نوجوان نہ تعلیم حاصل کر رہے تھے، نہ ملازمت میں تھے اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام سے وابستہ تھے۔ ان میں سے تقریباً 39 فیصد بے روزگار تھے، جبکہ 61 فیصد معاشی طور پر غیر فعال تھے اور ملازمت کی تلاش بھی نہیں کر رہے تھے۔
برنہم نے اس بحران کی وجوہات میں کووڈ-19 کے دوران لاک ڈاؤن، سوشل میڈیا، یونیورسٹی تعلیم پر ضرورت سے زیادہ توجہ، محدود روزگار کے مواقع اور سابقہ حکومتوں کی ناکامیاں شامل کیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا نوجوانوں کے اعتماد اور معاشرے سے وابستگی کے احساس کو کمزور کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ ہر نوجوان کو تکنیکی تعلیم، اپرنٹس شپ، ورک پلیسمنٹ اور ملازمت کے لیے ضروری مہارتوں کی ضمانت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور روزگار سے متعلق سابق وزیر صحت ایلن ملبرن کا طویل انتظار والا جائزہ اگلے ماہ شائع ہوگا اور اس کی سفارشات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

متعلقہ پوسٹ