گورنر راج پر تحفظات ہیں، حکومت پارلیمان کا ان کیمرہ اجلاس بلائے: فضل الرحمان

399307 1654367296


جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے منگل کو کہا ہے کہ اگر حکومت کو ان کی جماعت یا کسی دوسرے فریق سے شکایات ہیں تو الزام تراشی کے بجائے پارلیمان کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر بات کی جائے، جبکہ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی انسداد دہشت گردی کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے منگل کو اسلام آباد میں جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کیا اور حکومتی جواز کو بے بنیاد قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت سیاسی مکالمے پر یقین رکھتی ہے اور اقتدار کی تبدیلی سمیت تمام معاملات طاقت کے بجائے آئین کے مطابق ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی گورنر راج نافذ کیا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسے تسلیم کیا گیا تھا؟

مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ سابق فاٹا کے انضمام اور وہاں کیے گئے آپریشنز سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ ان کے بقول ان اقدامات کا مقصد خیبر پختونخوا کی معدنیات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی نے پانچ سال پہلے بھی فاٹا کے انضمام کی مخالفت کی تھی اور ان کے موقف کو کسی دوسرے فریق کے بیانیے سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں کسی سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں اور انہیں مشین گن سے وطن کی محبت نہ سکھائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی اور مدارس غیر محفوظ ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے پیشکش کی کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھنے پر متفق ہوں تو وزیر اعظم شہباز شریف انہیں دعوت دے کر عسکریت پسندی کے مسئلے کے حل اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں قومی حمایت حاصل کرنے پر بات کر سکتے ہیں۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے تناظر میں صوبائی حکومت سے تعاون کی کوشش کی گئی، تاہم ان کے بقول مطلوبہ تعاون نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کا رویہ تعاون پر مبنی ہو تو دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے اقدام کو سکیورٹی صورت حال اور صوبائی حکومت کے عدم تعاون سے جوڑا ہے، جبکہ جے یو آئی سمیت مخالفین اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں: رانا ثنا اللہ

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کو تیار ہے اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

منگل کو پارلیمان میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے مسئلے کا حل تلاش کرنے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے پوری قوم کی حمایت حاصل کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان سے متصل پاکستان کے مغربی صوبوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران عسکریت پسندوں کے تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے زیادہ تر واقعات شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا اور جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں پیش آئے ہیں۔

اسلام آباد بارہا ان حملوں کا الزام پڑوسی ملک افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں پر عائد کرتا رہا ہے، تاہم کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں وفاقی حکومت نے سکیورٹی صورت حال بگڑنے کا حوالہ دیتے ہوئے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت والی صوبائی حکومت کو ہٹا کر صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔ وفاقی حکومت نے صوبائی قیادت پر قومی سطح پر انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

یہ اقدام اسلام آباد اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کی اب برطرف شدہ صوبائی حکومت کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر طویل عرصے سے جاری اختلافات کے بعد سامنے آیا۔ وفاقی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔

رانا ثنا اللہ نے پارلیمان میں کہا، ’میں آج انہیں پیشکش کرتا ہوں کہ اگر تمام جماعتیں مل بیٹھنے پر متفق ہوں تو وزیر اعظم شہباز شریف اب بھی انہیں دعوت دینے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں تاکہ اس مسئلے (عسکریت پسندی) کا حل تلاش کیا جا سکے یا اس بات پر گفتگو ہو کہ پوری قوم ان (انسداد دہشت گردی کی) کارروائیوں کی حمایت کیسے کر سکتی ہے۔‘

انہوں نے وزیر اعظم اور حکومتی ارکان سے ملاقات سے انکار کرنے پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا، ’جب یہ رویہ ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ قومی خدمت نہیں ہے اور نہ ہی اس مسئلے کو حل کرنے کا درست طریقہ ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے صدر نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کی تھی۔ آرٹیکل 232 جنگ یا اندرونی خلفشار کی صورت میں ہنگامی حالت کے اعلان سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں صدر کو ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

وفاقی حکومت نے صوبے میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام پی ٹی آئی پر عائد کیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس اقدام کو ’غیر جمہوری‘ قرار دیا ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب اس کے ہزاروں کارکن اپنے زیر حراست رہنما عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے دارالحکومت کی جانب مارچ کر رہے تھے۔

دریں اثنا، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی منگل کو کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت سے تعاون کیا ہوتا تو صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’ہماری پوری کوشش تھی کہ صوبائی حکومت کا تعاون حاصل کیا جائے اور اسے باور کرایا جائے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ لڑ رہے ہیں اور اس سے پورا صوبہ اور پاکستان متاثر ہو رہا ہے۔‘

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں امن اور اس کے بچوں کا مستقبل عسکریت پسندی کے معاملے پر متحدہ مؤقف اختیار کرنے سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا، ’آج میں ایک بار پھر تمام اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور دہشت گردی کے خلاف اتفاق رائے پیدا کریں۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ