خلا نورد کی آنکھوں میں دوا ڈالنے کے لیے اسمارٹ پیچ تیار

1792883600 پیچ.webp


خلا نورد کی آنکھوں میں دوا ڈالنے کے لیے اسمارٹ پیچ تیار

اس حیرت انگیز پیچ کو جنوبی کوریا کے ادارے کے اے آئی ایس ٹی اور سیول نیشنل یونیورسٹی بنڈانگ ہسپتال کے محققین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے

سائنس دانوں نے ایک جدید ویئرایبل پیچ تیار کیا ہے جو آنکھ میں خودکار طریقے سے دوا پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو خاص طور پر خلا میں موجود خلابازوں کے لیے تیار کیا گیا ہے،جہاں زیرو گریویٹی (بے وزنی) کی وجہ سے آنکھوں میں قطرے ڈالنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، یہ ایجاد زمین پر بھی بہت سے لوگوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

اس حیرت انگیز پیچ کو جنوبی کوریا کے ادارے کے اے آئی ایس ٹی اور سیول نیشنل یونیورسٹی بنڈانگ ہسپتال کے محققین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس تحقیق کی قیادت پروفیسر کی ہون جیونگ  نے کی ہے۔

پیچ

یہ پیچ کیسے کام کرتا ہے؟

اس پیچ کو آنکھ کے قریب چہرے پر طبی چپکنے والی ایک تہہ کی مدد سے لگایا جاتا ہے اس کے اندر تین چھوٹے خانے اور باریک راستے دیے گئے ہیں پہلے خانے میں پانی سے بھیگا ہوا کپڑا موجود ہے جبکہ دوسرے خانے میں وٹامن سی اور بیکنگ سوڈا شامل ہیں جو پانی ملنے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس پیدا کرتے ہیں اسی طرح تیسرے خانے میں آنکھ کی دوا رکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دردکش دوا کی زائد مقدار کو زائل کرنے والا سمجھدار پیچ تیار

جب صارف پیچ پر انگلی سے دباؤ ڈالتا ہے تو پانی خارج ہو کر دوسرے خانے میں پہنچتا ہے، جہاں گیس بنتی ہے۔ یہ گیس دباؤ پیدا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں دوا باریک نالی کے ذریعے آنکھ کے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔

ویئرایبل پیچ

انسانوں پر کیے گئے تجربات کے دوران اس پیچ نے تقریباً اتنی ہی مؤثر مقدار میں دوا پہنچائی جتنی روایتی آئی ڈراپس سے پہنچتی ہےتاہم، ابھی تک اس آلے کو حقیقی زیرو گریویٹی ماحول میں آزمایا نہیں گیا۔

اس پیچ سے خلاباز جو خلا میں آسانی سے آنکھوں میں دوا نہیں ڈال سکتے، پارکنسنز کے مریض جنہیں ہاتھوں میں کپکپی کی وجہ سے قطرے ڈالنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے اس کے علاوہ  ایسے افراد جنہیں خود اپنی آنکھ میں قطرے ڈالنے میں مشکل پیش آتی ہے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ