پنجاب کے نجی شیلٹر ہومز میں مقیم بچوں کا تحفظ، حکومتی نگرانی کا نظام غیر مؤثر

shelter homes in punjab1792939607 0



پنجاب میں سینکڑوں یتیم، لاوارث اور غیر محفوظ حالات سے دوچار بچوں کے لیے شیلٹر ہومز (پناہ گاہیں) تحفظ کی جگہ تصور کیے جاتے ہیں جبکہ بچوں کو رہائش فراہم کرنے والے متعدد نجی ادارے اب بھی حکومتی نگرانی کے مؤثر نظام سے باہر ہیں، جس کے باعث حکام کے پاس اس حوالے سے واضح اور تازہ ترین معلومات موجود نہیں کہ ان اداروں میں کتنے بچے رہ رہے ہیں، انہیں کن حالات میں رکھا گیا ہے اور آیا ان کی حفاظت یقینی بنائی جا رہی ہے یا نہیں۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو (سی پی ڈبلیو بی) کے مطابق پنجاب میں اب تک صرف 14 شیلٹر ہومز کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں جبکہ 50 سے زائد ادارے غیر رجسٹرڈ ہیں، بیورو نے یونیسیف پاکستان کے اشتراک سے22- 2021 میں کیے گئے ایک سروے میں پنجاب کے 105 رہائشی اداروں کی نشان دہی کی تھی، جن میں 41 سرکاری اور 64 نجی ادارے شامل تھے۔

ان اداروں میں مجموعی طور پر 5 ہزار 762 بچے مقیم تھے تاہم، چار سال گزرنے کے باوجود حکومت کے پاس ان اداروں اور وہاں رہائش پذیر بچوں کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

سی پی ڈبلیو بی کے مطابق مزید چار سے پانچ اداروں کی رجسٹریشن کی درخواستیں زیرغور ہیں، لائسنس جاری کرنے سے قبل متعلقہ حکام عمارتوں، عملے، دستیاب سہولیات اور بچوں کی دیکھ بھال کے انتظامات کا معائنہ کرتے ہیں جبکہ لائسنس کے اجرا کے بعد وقتاً فوقتاً ان اداروں کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔

نجی شیلٹر ہومز ایسے وقت میں بچوں کو رہائش، خوراک، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرتے ہیں جب سرکاری اداروں میں گنجائش محدود ہے تاہم غیر رجسٹرڈ اداروں کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث بچوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں، ماضی میں پیش آنے والے متعدد واقعات نے بھی ان اداروں میں بچوں کے رہائشی حالات اور ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر سوالات اٹھائے ہیں۔

خیال رہے کہ ملتان میں 15 سالہ یتیم وسیم عباس کے حالیہ قتل نے ادارہ جاتی نگہداشت میں رہنے والے بچوں کے تحفظ کے معاملے کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے، وسیم ایک این جی او کے زیرانتظام یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا، مبینہ طور پر اسے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بھیجا گیا، جہاں سے واپسی کے دوران ٹھیکیدار نے اس کا پیچھا کیا اور گاڑی تلے روند دیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ قتل کی دفعات کے تحت درج کیا جبکہ سی پی ڈبلیو بی نے 20 اکتوبر کو مذکورہ یتیم خانے کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر دی۔

بیورو کے مطابق یہ فیصلہ بچوں کے تحفظ اور نگرانی کے انتظامات سے متعلق خدشات کی بنیاد پر کیا گیا، اس واقعے نے ان سوالات کو جنم دیا ہے کہ بچوں کو ان اداروں سے باہر بھیجے جانے کے بعد ان کی نگرانی اور حفاظت کو کس طرح یقینی بنایا جاتا ہے، جو ان کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں۔

اپریل 2024 میں لاہور کے علاقے گجومتہ میں ایک غیر رجسٹرڈ یتیم خانے سے 32 بچوں کو بازیاب کرایا گیا تھا، سی پی ڈبلیو بی کے مطابق بچے دو چھوٹے کمروں میں رہنے پر مجبور تھے، ادارے کے سربراہ کے خلاف پنجاب ڈیسٹی ٹیوٹ اینڈ نیگلیکٹڈ چلڈرن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، تاہم بچوں کے طبی معائنے میں جنسی زیادتی کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ستمبر 2025 میں چیچہ وطنی کے ایک غیر رجسٹرڈ ادارے میں بچوں پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد 18 بچوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا تھا، پولیس کے مطابق بچوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، واقعے میں ایک نگران کو گرفتار کیا گیا جبکہ ادارے کے منتظمین کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے۔

بچوں کے تحفظ کے ماہرین کا کہنا تھا کہ نجی شیلٹر ہومز کی رجسٹریشن اور ان کی باقاعدہ نگرانی کے موجودہ نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

سرچ فار جسٹس کے سربراہ افتخار مبارک نے کہا کہ سی پی ڈبلیو بی کے ساتھ رجسٹریشن سے نہ صرف بچوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ نگرانی کے نظام کو بھی مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پنجاب چیریٹی کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن کرواتے وقت یا ہر سال رجسٹریشن کی تجدید کے موقع پر شیلٹر ہومز کے لیے سی پی ڈبلیو بی کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ پیش کرنا بھی لازمی قرار دیا جائے۔

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن راشدہ قریشی نے کہا کہ یہ تشویش ناک امر ہے کہ بعض اداروں کے پاس بچوں کو اپنی تحویل میں رکھنے کا واضح قانونی اختیار بھی موجود نہیں اور انہوں نے تمام شیلٹر ہومز کی رجسٹریشن اور باقاعدہ معائنے کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی رہائش، خوراک، تعلیم اور صحت کی سہولیات کے لیے یکساں معیارات مقرر کیے جانے چاہئیں۔

ساحل کے لیگل ایڈ کوآرڈینیٹر امتیاز سومرو ایڈووکیٹ نے کہا کہ شیلٹر ہومز، دینی مدارس اور بورڈنگ اسکولوں میں بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی ناگزیر ہے جبکہ موجودہ نظام میں یہ واضح نہیں کہ ان اداروں کی نگرانی کی ذمہ داری کس محکمے یا ادارے کے سپرد ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی پی ڈبلیو بی اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے دیگر ادارے بچوں کے استحصال کی روک تھام کے لیے نگرانی کا ایک مؤثر اور باقاعدہ نظام قائم کریں۔

امتیاز سومرو کے مطابق شیلٹر ہومز، مدارس اور بورڈنگ اسکولوں میں بچوں کے ساتھ جنسی و جسمانی تشدد اور استحصال کے دیگر واقعات اکثر رپورٹ نہیں ہو پاتے، بعض اداروں تک میڈیا کی رسائی بھی محدود ہے، جس کے باعث بچوں سے متعلق واقعات منظر عام پر لانا مشکل ہو جاتا ہے۔

سی پی ڈبلیو بی کے مطابق پنجاب میں اس وقت 11 چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹس کام کر رہے ہیں، جبکہ صوبے بھر میں 25 چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے صرف 6 فعال ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ