
(ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورت حال کے باعث تیل کی سپلائی کرنے والے جہازوں کے کرائے آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں، اور آئل ٹینکرز کے کرایوں میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔
جنگ سے پہلے آئل ٹینکر کا یومیہ کرایہ 20 سے 50 ہزار ڈالر تھا، جو بڑھ کر اب 2 لاکھ 54 ہزار ڈالر ہو گیا ہے۔
تیل کی سپلائی کرنے والے جہازوں کے یومیہ کرایوں میں معمول کی سطح کے مقابلے میں 5 گنا سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ سے مشرقِ بعید تیل کی ترسیل کے کرائے بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:107 سالہ فوجی نے لمبی عمر کا راز بتا دیا
جنگی صورت حال کے باعث آئل ٹینکر کا یومیہ کرایہ 2 لاکھ 80 ہزار ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران آئل ٹینکرز کا یومیہ کرایہ 20 سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان رہا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگی خطرات کے باعث آئل ٹینکرز کے انشورنس پریمیم میں اضافے کا خدشہ ہے۔
شپنگ کرایوں اور انشورنس اخراجات میں اضافے کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

