گینگسٹرز بطور ریاستی ہتھیار، خفیہ ایجنسیوں کے آلہ کار

Untitled design 4


لارنس بشنوئی (تصویر بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

جب ریاست گینگسٹرز کو پالیسی کا ہتھیار بنا لیتی ہے، جب جیلوں کے اندر اشونی نائک جیسے مجرموں کے ہاتھوں میں انتظامیہ کے سرکاری کاغذات آ جاتے ہیں اور جب لارنس بشنوئی کو قانون کے شکنجے سے بچانے کے لیے ریاستی احکامات جاری ہوتے ہیں، تو یہ انٹلی جنس اداروں کی فتح نہیں ہوتی۔ یہ قانون، اخلاق اور آئین کا وہ تاریخی دیوالیہ پن ہوتا ہے جس کے ملبے تلے بالآخر پوری ریاست دب جاتی ہے۔

اکتوبر 18 کی شام جب ہندوستان کے اقتصا دی دارالحکومت ممبئی کے پوش اور چکا چوند سے بھرپور علاقے جوہو میں فلم اسٹار ٹائیگر شروف کی کار پر اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں، تو ممبئی انڈر ورلڈ کا دہائیوں پرانا خوف پلک جھپکتے ہی دوبارہ زندہ ہو اٹھا۔

حملہ آوروں نے بتایا کہ اصل نشانہ بالی وڈ سپر اسٹار سلمان خان اور ان کے قریبی حلقے ہیں، اور یہ فائرنگ محض ایک وارننگ ہے۔ راجستھان کے کوٹہ ریلوے اسٹیشن سے گرفتار ہونے والے شوٹرز کا سراغ لگایا گیا تو سب کے سب تار جا کر بدنام زمانہ بشنوئی گینگ سےجڑ گئے۔

وہی گینگ جس کا سرغنہ لارنس بشنوئی گجرات کی ہائی سکیورٹی سابرمتی سینٹرل جیل کے محفوظ ترین وارڈ میں بیٹھا ہے۔

ایک ہی وقت میں بالی وڈ کے سپر اسٹارز کو اعلانیہ دھمکیاں دینا، ممبئی کی سڑکوں پر سابق وزیر بابا صدیقی کو گولیوں سے چھلنی کرنا، پروڈیوسر روہت شیٹی کو تاوان کی کالیں بھیجنا، کینیڈا کے شہر سرے میں سکھ سیاسی کارکن ہردیپ سنگھ نجر کا سرعام قتل، امریکی سرزمین پر گرپتونت سنگھ پنوں کو مارنے کی ناکام سازش، اور پاکستان کی گلیوں میں نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ہندوستان مخالف سمجھے جانے والے سابق عسکریت پسندوں کا چن چن کر شکار کیا جانا،یہ تمام خونیں ڈوریاں آخر کس کے ہاتھ میں ہیں؟

یہ محض پولیس کی روزمرہ کرائم رپورٹنگ کا قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاستی طاقت، خفیہ ایجنسیوں اور انڈر ورلڈ کے اس خطرناک گٹھ جوڑ کی ہولناک داستان ہے جس میں جیل کی سلاخیں مجرم کے لیے سزا کی بجائے ایک ایسی محفوظ پناہ گاہ اور کمانڈ سینٹر بن چکی ہیں جہاں سے بیٹھ کر وہ ریاستی سرپرستی کے سائے میں بین الاقوامی جرائم کا کاروبار چلاتا ہے۔

ممبئی پولیس اس وقت بدترین بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ شہر میں یکے بعد دیگرے بشنوئی گینگ کی جانب سے کارروائیاں ہو رہی ہیں، مگر ممبئی کرائم برانچ لارنس بشنوئی کو پوچھ گچھ کے لیے ممبئی لانے سے مکمل طور پر قاصر ہے۔

اس بے بسی کی وجہ کوئی قدرتی رکاوٹ نہیں بلکہ مرکزی وزارت داخلہ کی وہ فولادی ڈھال ہے جس نے بشنوئی کے گرد غیر معمولی قانونی قلعہ بندی کر رکھی ہے۔اگست 2023 میں وزارت داخلہ نے  ایک خصوصی حکم نامہ جاری کیا تھا، جس نے بشنوئی کو گجرات کی سابرمتی جیل سے باہر منتقل کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

اس کے مطابق، ملک کی کوئی بھی ریاست، کوئی بھی عدالت اور کوئی بھی تفتیشی ایجنسی معمول کے پروڈکشن وارنٹ کے ذریعے لارنس بشنوئی کی جسمانی تحویل حاصل نہیں کر سکتی۔ ملک بھر کی پولیس کو دو ٹوک بتا دیا گیا ہے کہ اگر بات کرنی ہے تو گجرات آ کر جیل کی چاردیواری میں کرو یا پھر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کمپیوٹر اسکرین پر سوال پوچھ لو۔

ممبئی پولیس کے سینئر افسران بند کمروں میں اعتراف کرتے ہیں کہ ویڈیو اسکرین پر خطرناک گینگسٹرز سے بیانات لینا محض ایک کاغذی تماشا ہے۔ جب تک ملزم کو اپنی تحویل میں لے کر تھانے کے سیل میں روبرو بٹھا کر سخت پوچھ گچھ نہ کی جائے، تب تک نہ گینگ کا نیٹ ورک ٹوٹ سکتا ہے، نہ اس کی فنڈنگ کے راستے کھلتے ہیں اور نہ ہی اس کے پسِ پردہ سرپرستوں کے نام سامنے آ سکتے ہیں۔

مگر نئی دہلی کے حکمراں اس گینگسٹر کو سابرمتی جیل کے پرتعیش اور محفوظ ماحول میں اس طرح سنبھالے ہوئے ہیں جیسے وہ کوئی قومی اثاثہ ہو۔

ریاستی عذر یہ تراشا گیا ہے کہ بشنوئی کو منتقل کرنے سے امن و امان بگڑ سکتا ہے یا گینگ وار پھوٹ سکتی ہے۔ مگر حقیقت سب پر عیاں ہے؛ لارنس بشنوئی کو قانون کے شکنجے اور ریاستی پولیس کے سوالوں سے بچا کر اس لیے محفوظ رکھا گیا ہے کیونکہ وہ انٹلی جنس کے لیے ایک نایاب اور بے رحم مہرہ بن چکا ہے۔

اسے جیل کے اندر تمام آسائشیں میسر ہیں، وہ اسمارٹ فونز اور اینکرپٹڈ ایپس کے ذریعے بیرونِ ملک اپنے کارندوں کو ہدایات دیتا ہے، پرتعیش کھانے کھاتا ہے، جبکہ باہر سڑکوں پر پولیس محض ان غریب اور بے روزگار لڑکوں کو پکڑ کر پیٹھ تھپتھپا رہی ہوتی ہے جنہیں محض چند ہزار روپے اور ہتھیار دے کر آگے دھکیلا جاتا ہے۔

یہ طریقہ واردات کوئی نیا نہیں ہے۔ ماضی میں یہی قانونی اور تزویراتی تحفظ انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا راجن کو بھی فراہم کیا گیا تھا جب اسے انڈونیشیا سے لا کر تہاڑ جیل کے انتہائی محفوظ وارڈ میں رکھا گیا اور ممبئی پولیس کے بااثر داؤد نواز عناصر سے دور رکھا گیا تاکہ خفیہ ایجنسیاں اس کے تجربے اور نیٹ ورک کو اپنے مقاصد کے لیے بلا روک ٹوک استعمال کر سکیں۔

جیل کے اندر گینگسٹر کے لیے شاہانہ ماحول کیسا ہوتا ہے اور کس طرح قانون کے محافظ گینگسٹرز کے سامنے سجدہ ریز رہتے ہیں؟ اس تلخ سچائی کو سمجھنے کے لیے مجھے کسی کتاب یا خفیہ رپورٹ کی ضرورت نہیں، کیونکہ میں نے اس کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے۔


بات 2002 اور 2003 کی ہے جب میں دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید تھا۔ تہاڑ میں جب مجھے جنرل وارڈ میں شفٹ کیا گیا تو وہیل چیئر پر ایک حضرت تقریباً روز ہی وارڈ کا چکر کاٹتے تھے۔ ان کے ساتھ کئی سزا یافتہ قیدی ان کی وہیل چیئر کو دھکا لگانے اور کچھ ہٹو بچو کی صدائیں لگاتے رہتے تھے، جیسے کسی راجہ کی سواری آرہی ہو۔

ایک عرصے تک میں مغالطے میں تھا کہ یہ  جیل کے کوئی افسر ہیں، جو معائنہ کے لیے آتے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہیل چیئر پر گھومنے والا شخص اس دور کا بدنام اور خوف کی علامت سمجھا جانے والا ممبئی کا گینگسٹر اشونی نائک تھا۔

اشونی نائک، جو ممبئی کے انڈر ورلڈ میں امر نائک کا بھائی تھا، برسوں پہلے حریف گینگ کے ایک حملے میں شدید زخمی ہو کر مستقل طور پر وہیل چیئر پر آ چکا تھا اور پیروں سے معذور تھا۔ جہاں عام قیدیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح تنگ اور حبس زدہ بیرکوں میں جانوروں جیسی حالت میں بند رکھا جاتا تھا، وہیں اشونی نائک کے لیے جیل کی کوئی سلاخ اور کوئی تالا بند نہیں ہوتا تھا۔

وہ دن بھر اپنی وہیل چیئر پر جیل کے احاطے میں بالکل آزاد گھومتا تھا۔ اس کی خدمت، دیکھ بھال، کے لیے باقاعدہ کئی سزا یافتہ قیدی مامور تھے۔


  جس د ن میری رہائی  تھی، تو ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے لیے  جب مجھے جیل کے کنٹرول روم میں لے جایا گیا، تو  اشونی نائک وہیل چیئر پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی کرسی کے بالکل متوازی اس کی میز سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔

تمام دفتری دستخط اور کاغذات مکمل ہو گئے، لیکن اب فائلیں لے کر بیرونی مین گیٹ کے پاس واقع جیل سپرنٹنڈنٹ کے مرکزی دفتر جانا تھا تاکہ وہاں سے باضابطہ رہائی کی مہر اور رسید حاصل کی جا سکے۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے اپنے ماتحت وارڈن یا اردلی کو بلانے کے لیے بار بار بیل کا بٹن دبایا۔ باہر کوئی چپراسی یا سپاہی موجود نہیں تھا۔

ادھر سپرنٹنڈنٹ آفس سے مجھے لانے اور کارروائی مکمل کرنے کے لیے بار بار فون آرہے تھے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ابھی ادھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کہ اشونی نائک نے اپنے خاص کرائم لارڈ والے انداز میں مسکرا کر کہا؛


چھوڑیے صاحب، آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟ میں اسے لے کر جاتا ہوں۔


ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے میری رہائی کے سرکاری کاغذات، فائلیں اور رسیدیں اٹھا کر اس گینگسٹر کی گود میں رکھ دیں۔اشونی نائک اپنی وہیل چیئر چلاتے ہوئے آگے آگے تھا اور میں  اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ مین گیٹ کے پاس سپرنٹنڈنٹ کے دفتر لے جاکر کر اس نے خود افسران کو فائل تھمائی، ان سے دستخط اور سرکاری رسید وصول کی، اور پھر مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھ کر بولا؛


جائیے گیلانی صاحب، آپ آزاد ہیں۔


ہندوستانی ریاست اور اس کی انٹلی جنس مشینری کے لیے گینگسٹرز کو سیاسی یا اسٹریٹجک مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے استعمال کرنا کوئی نئی اختراع نہیں ہے۔ ہندوستان کے موجودہ قومی سلامتی مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال کا طویل انٹلی جنس کیریئر اس بات کا گواہ ہے کہ وہ نان اسٹیٹ ایکٹرز اور انڈر ورلڈ کرمنلز کو ریاست کے خفیہ ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے فن کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

ان کا واضح ڈاکٹرائن رہا ہے کہ بیرونی اور اندرونی دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے باقاعدہ فوج یا سرکاری کمانڈوز بھیجنے کی بجائے انڈر ورلڈ کا کرائے کا بازو استعمال کیا جائے، تاکہ مشن کامیاب ہو تو ریاست کا پلڑا بھاری رہے اور اگر بھانڈا پھوٹ جائے تو انکار کی چادر اوڑھ کر صاف مکر جایا جائے کہ یہ تو انڈر ورلڈ کی آپسی گینگ وار تھی۔

اس کھیل کی باقاعدہ شروعات 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے فوری بعد ہوئی تھی۔ جب داؤد ابراہیم اور اس کے نائب چھوٹا راجن کے درمیان خونریز پھوٹ پڑی، تو انٹلی جنس بیورو (آئی بی) نے فوری طور پر چھوٹا راجن کی پشت پر ہاتھ رکھ دیا۔

راجن نے خود کو کمال ہوشیاری سے ”محبِ وطن ڈان“قرار دیا اور شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے کھلے عام اسے ”ہندو ڈان“کا خطاب دے کر اس کے جرائم کو تقدس بخش دیا۔انٹلی جنس کی مکمل لاجسٹک، مالی مدد کے ساتھ چھوٹا راجن کے گینگ نے ڈی-کمپنی کے ان تمام کارندوں کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا جو 1993 کے دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔

سال 1998 میں نیپال کے رکن پارلیامنٹ دلشاد مرزا بیگ کا سنسنی خیز قتل اسی منصوبے کی ایک کڑی تھا۔ بیگ پر شبہ تھا کہ وہ کاٹھمنڈو میں بیٹھ کر داؤد ابراہیم کے نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

چھوٹا راجن کے خونخوار شارپ شوٹر بھرت نیپالی نے کاٹھمنڈو کی سڑکوں پر دلشاد مرزا بیگ کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس قتل نے راجن کو راتوں رات ایجنسیوں کی نظر میں ہیرو بنا دیا، اس کے بھتہ خوری کے نیٹ ورک کو ہندوستان بھر میں چھوٹ ملی۔ جب 2000 میں بنکاک کے ایک اپارٹمنٹ میں داؤد کے شارپ شوٹر شرد شیٹی اور چھوٹا شکیل کے آدمیوں نے راجن پر جان لیوا حملہ کیا تو بنکاک کے اسپتال سے اسے خفیہ طریقے سے فرار کروانے میں بھی ہندوستانی انٹلی جنس کے کارندوں نے مدد کی۔

بعد ازاں 2003 کے ہندوستانی پارلیامنٹ حملے کی تفتیش کے دوران بھی راجن کے سب سے اہم شوٹر فرید تاناشا نے ایجنسیوں کے لیے اہم ترین مخبری کی۔

مگر اس انٹلی جنس گٹھ جوڑ کی تاریخ کا سب سے رسوا کن، سنسنی خیز اور ناقابلِ تردید ثبوت اس وقت سامنے آیا جب ہندوستان کے سابق مرکزی ہوم سکریٹری اور بعد میں مودی حکومت میں وزیر مملکت بننے والے راج کمار سنگھ نے خود  اس پورے طریقہ واردات کا پردہ چاک کر دیا۔

سنگھ نے بلا جھجھک انکشاف کیا کہ سال 2005 میں ہندوستان کی اعلیٰ ترین سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے خاتمے کا ایک انتہائی خفیہ منصوبہ تیار کیا تھا، اور اس آپریشن کی براہِ راست کمان موجودہ این ایس اے اجیت ڈوبھال سنبھالے ہوئے تھے۔

آر کے سنگھ نے مزید اندرونی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستانی حکومت مکمل ‘ڈینائی ایبلٹی’ چاہتی تھی، یعنی کوئی ایسا ثبوت نہ بچے جس سے کل کو ریاستی فوج یا اسپیشل فورسز پر حرف آئے۔

اسی لیے کمانڈوز بھیجنے کے بجائے چھوٹا راجن کے سب سے سفاک شارپ شوٹرزوکی ملہوترا اور فرید تاناشاکو خفیہ تربیت دی گئی، انہیں سرکاری ذرائع سے جعلی سفری دستاویز اور ہوائی ٹکٹ فراہم کیے گئے، اور دبئی کے گرینڈ حیات ہوٹل کا اندرونی نقشہ تھمایا گیا تاکہ وہ شادی کی بھیڑ میں داؤد کو ٹھکانے لگا دیں۔ یہ کسی تفتیشی صحافی کا قیاس نہیں تھا، بلکہ ہندوستان کے سابق ہوم سکریٹری کا آن ریکارڈ سرکاری اعتراف تھا۔

یہ واقعہ جولائی 2005 کا تھا۔ انٹلی جنس بیوروکے چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے چھ ماہ بعد بھی اجیت ڈوبھال اسی  مشن کی تکمیل میں لگے ہوئے تھے۔  داؤد ابراہیم کی بیٹی ماہ رخ کی شادی پاکستان کے سابق لیجنڈ کرکٹر جاوید میاں داد کے بیٹے جنید سے ہو رہی تھی، اور 23 جولائی 2005 کو دبئی کے شاندار فائیو اسٹار ہوٹل ‘گرینڈ حیات’ میں ولیمے کی تقریب رکھی گئی تھی۔ 1993 کے بعد یہ پہلا تصدیق شدہ موقع تھا جب داؤد ابراہیم کے دبئی میں خود اس تقریب میں شریک ہونے کی پکی خبریں تھیں۔

دبئی روانگی سے قبل دہلی کے اشوکا ہوٹل کے قریب شوٹرز کو حتمی بریفنگ دی جا رہی تھی۔ لیکن ڈوبھال اور ان کے خفیہ نیٹ ورک کو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کی ایک متحرک ٹیم ان کے پیروں تلے سے زمین کھینچنے والی ہے۔

ممبئی کرائم برانچ کے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر دھننجے کملاکر طویل عرصے سے وکی ملہوترا کی تلاش میں سرگرداں تھے، جو قتل اور مکوکاکے تحت سنگین مقدمات میں اشتہاری تھا۔

ممبئی پولیس کو فون ٹیپنگ اور اپنے مخبروں کے ذریعے پتہ چلا کہ ملہوترا دہلی کے ایک پوش ہوٹل میں ناشتے کی میز پر کسی سے خفیہ ملاقات کر رہا ہے۔

کملاکر اپنی پوری ٹیم لے کر راتوں رات دہلی پہنچے اور ضابطے کے مطابق دہلی پولیس کو مطلع کیا۔ ممبئی پولیس کو اپنی اس شاندار کامیابی پر اس قدر پختہ یقین تھا کہ انہوں نے اپنی بہادری اور کارروائی کو لائیو ریکارڈ کروانے کے لیے دہلی اور ممبئی کے درجنوں اہم کرائم رپورٹرز اور میڈیا کیمروں کو بھی خفیہ طور پر موقع پر طلب کر لیا تھا! پورے ہوٹل کے استقبالیہ، لابی اور باہر سڑک پر خفیہ پولیس اہلکار اور نامہ نگار پھیلے ہوئے تھے۔

اگلی صبح جیسے ہی سفید رنگ کی سرکاری ایمبیسڈر کار ہوٹل کے احاطے سے باہر نکلی، ممبئی پولیس کی گاڑیوں نے سائرن بجاتے ہوئے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ پولیس اہلکاروں نے اپنی بندوقیں تان لیں اور پچھلی سیٹ پر بیٹھے ملزمان کو ہاتھ اٹھا کر باہر نکلنے کا حکم دیا۔ لیکن جیسے ہی پچھلا دروازہ کھلا، ممبئی پولیس کے ڈپٹی کمشنر اور کرائم رپورٹرز کے ہوش اڑ گئے۔

کار کی پچھلی سیٹ پر وکی ملہوترا کے برابر میں ملک کی سب سے بڑی انٹلی جنس ایجنسی کے سابق چیف اور موجودہ قومی سلامتی مشیر اجیت کمار ڈوبھال خود براجمان تھے! اور کار کی ڈکی میں جدید غیر قانونی ہتھیاروں کی کھیپ موجود تھی۔ڈوبھال نے غصے میں لال پیلے ہو کر ممبئی پولیس کے افسران سے ان کی شناخت طلب کی اور دھمکی آمیز لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ قومی سلامتی کا ایک انتہائی حساس، خفیہ اور اعلیٰ سطحی آپریشن ہے جس میں دخل اندازی ملکی مفاد کے خلاف ہوگی۔

مگر چونکہ ممبئی پولیس پہلے ہی میڈیا اور کرائم رپورٹرز کا ہجوم موقع پر جمع کر چکی تھی، کیمرے آن تھے اور بات افسران کی اپنی کھال اور نوکری پر آ چکی تھی، اس لیے انہوں نے وکی ملہوترا کو چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا۔ شدید گرما گرمی کے بعد ڈوبھال نے اپنے موبائل سے دہلی کے مقتدر ایوانوں میں متعدد ہنگامی فون کالز کیں، جس کے بعد پولیس نے انہیں تو وہاں سے خاموشی سے نکل جانے دیا، مگر وکی ملہوترا اور فرید تاناشا کو ہتھکڑیاں لگا کر کیمروں کے سامنے ممبئی روانہ کر دیا گیا۔

داؤد ابراہیم کو دبئی کی شادی میں ٹھکانے لگانے کا وہ پورا منصوبہ میڈیا کے سامنے تار تار ہو گیا۔ بعد میں جب میڈیا نے اجیت ڈوبھال سے اس واقعے پر سوال پوچھا، تو انہوں نے انتہائی معصومیت سے کورا جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ ”وہ تو اس وقت اپنے گھر میں صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہے تھے!“بعد ازاں امریکی سفارت خانے کے خفیہ کیبلز جو وکی لیکس کے ذریعے افشا ہوئے نے بھی تصدیق کی کہ کس طرح ہندوستانی انٹلی جنس اور انڈر ورلڈ کا یہ کھیل دہلی کی سڑکوں پر سرعام بے نقاب ہوا تھا۔

وقت بدلا، کھلاڑی بدلے، لیکن ایجنسیوں کا کھیل اور طریقہ واردات وہی رہا۔ چھوٹا راجن جب بوڑھا اور ناکارہ ہو گیا، تو اس کی جگہ لینے کے لیے ایک نئے، سفاک اور ٹکنالوجی فرینڈلی چہرے کو تراشا گیا۔ یہ چہرہ تھا لارنس بشنوئی کا۔پنجاب کے ضلع فاضلکا سے تعلق رکھنے والا لارنس بشنوئی کالج کی طلبہ سیاست اور معمولی مار پیٹ سے جرائم کی دنیا میں داخل ہوا تھا۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ شمالی ہند کا سب سے بڑا گینگسٹر بن گیا۔

اس وقت اس کا گینگ محض ایک مقامی گروہ نہیں رہا، بلکہ 700 سے زائد مسلح شوٹرز پر مشتمل ایک کارپوریٹ مافیا میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بشنوئی کے گینگ کا سب سے خطرناک پہلو اس کا ٹکنالوجی اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر جدید ہتھیاروں، بلیٹ پروف گاڑیوں، غیر ملکی کرنسیوں اور گینگسٹر لائف اسٹائل کی گلیمرائزیشن کر کے پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے غریب اور بے روزگار نوجوانوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔

انہیں یہ لالچ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ گینگ کے احکامات پر ایک دو کارروائیاں کریں گے، تو انہیں غیر قانونی ‘ڈنکی روٹس’ یا اسٹوڈنٹ ویزے کے ذریعے کینیڈا اور امریکہ میں نئی پرتعیش زندگی دے دی جائے گی۔ 2022 میں پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے بہیمانہ قتل نے بشنوئی گینگ کے بین الاقوامی خدوخال واضح کیے تھے۔

موسے والا کوبشنوئی کی مرضی سے کینیڈا میں بیٹھے اس کے دست راست گولڈی برار نے ماروایا۔ اور یہیں سے ہندوستانی انٹلی جنس ایجنسیوں نے لارنس بشنوئی کو اپنے بین الاقوامی ‘پراکسی مشن’ کے لیے باقاعدہ اپنا بنیادی ہتھیار بنا لیا۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کا جو ہولناک چہرہ دنیا کے سامنے آیا ہے، اس نے مغربی دارالحکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کینیڈا میں 18 جون 2023 کو برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں واقع گرودوارے کے باہر سکھ رہنما اور خالصتان کے حامی ہردیپ سنگھ نجر کو دن دہاڑے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

ہندوستان نے فوراً اسے سکھوں کی آپسی گینگ وار قرار دے کر ہاتھ جھاڑ لیے۔ لیکن کینیڈین پولیس (آر سی ایم پی) اور کینیڈین وزیر اعظم نے جب شواہد کے ساتھ پارلیامنٹ میں انکشاف کیا کہ اس قتل کے پیچھے ہندوستان کی سرکاری ایجنسیاں ملوث ہیں، تو ہر کوئی سکتے میں آ گیا۔

کینیڈین پولیس نے اس کیس میں جن چار نوجوانوں کرن پریت سنگھ، کمل پریت سنگھ، کرن برار اور امن دیپ سنگھ کو گرفتار کیا، وہ کوئی تربیت یافتہ را ایجنٹس نہیں تھے، بلکہ وہ کینیڈا میں موجود لارنس بشنوئی کے نیٹ ورک کے کارندے تھے۔

کنگسٹن کی کوئینز یونیورسٹی کے محقق اور دہشت گردی کے امور کے ماہر پروفیسر امرناتھ امر سنگم نے اس گٹھ جوڑ کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ”سہولت کی شادی“ ہے۔ انٹلی جنس پیسہ پھینکتی ہے اور گینگسٹرز کو جیلوں میں تحفظ اور باہر ٹارگٹ کلنگ کے لیے بھاری ادائیگیاں کرتی ہے، اور بشنوئی جیسا گینگ ہر اس شخص کے سینے میں گولی اتارنے کو تیار ہو جاتا ہے جس کی ریاست کو ضرورت ہو۔

اسی ماڈل کا سب سے ناقابلِ تردید ثبوت امریکہ میں سامنے آیا۔ امریکی محکمہ انصاف نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں ایک باقاعدہ فردِ جرم دائر کی، جس میں خالصتانی رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کو بے نقاب کیا گیا۔

امریکی تحقیقات کے مطابق، دہلی میں بیٹھ کر ‘را’ کا ایک حاضر سروس سینئر انٹلی جنس افسر، وکاس یادیو، نکھل گپتا نامی ایک بین الاقوامی اسمگلر کو ہدایات دے رہا تھا کہ وہ نیویارک میں شوٹرز کا بندوبست کرے۔

امریکی ایجنسیوں نے جب نکھل گپتا کی فون ریکارڈنگز پکڑیں تو اس میں وہ واشگاف الفاظ میں کہہ رہا تھا کہ ”ہمیں دہلی سے ہری جھنڈی مل چکی ہے، اور ہم نے ہی کینیڈا میں نجر کا کام تمام کروایا ہے، اب پنوں کی باری ہے۔“

اس خونی کھیل کا تیسرا اور سب سے خون آلود میدان پاکستان رہا ہے۔ 2020 سے لے کر اب تک پاکستان کے طول و عرض میں نامعلوم بندوق برداروں کے ذریعے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 20 سے 24 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر افراد وہ تھے جو ماضی میں تحریکِ آزادیِ کشمیر یا کشمیری عسکریت پسند تنظیموں سے وابستہ رہے تھے یا ہندوستان کی مطلوبہ فہرستوں میں شامل تھے۔

فروری 2023 میں راولپنڈی کی ایک دکان میں حزب المجاہدین کے سابق کمانڈر بشیر احمد پیر عرف امتیاز عالم کو انتہائی قریب سے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ اسی مہینے کراچی میں الفاران اور البدر سے وابستہ رہے خالد رضا کو ان کے گھر کے باہر سر میں گولی ماری گئی۔

ستمبر 2023 میں آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ کی ایک مسجد کے اندر لشکرِ طیبہ سے ماضی میں وابستہ ریاض احمد عرف ابو قاسم کو نماز کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ اکتوبر 2023 میں سیالکوٹ کے ڈسکہ ڈگری کالج روڈ پر واقع مسجد نور مدینہ کے باہر شاہد لطیف کو ان کے بھائی سمیت قتل کر دیا گیا، جن پر ہندوستان 2016 کے پٹھانکوٹ حملے کا الزام لگاتا تھا۔

اسی طرح نومبر 2023 میں خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں مولانا رحیم اللہ طارق کو گولیاں مار دی گئیں، جبکہ دسمبر 2023 میں کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں مفتی قیصر فاروق کو دن دہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

اس سے قبل لاہور میں پیر ظاہر شاہ اور ظفر مستری جو قندھار طیارہ ہائی جیکنگ میں مطلوب تھے کو بھی اسی پراسرار انداز میں ٹھکانے لگایا گیا تھا۔ہر  قتل کا طریقہ کار بالکل ایک ہی تھا: دو موٹر سائیکل سوار اچانک نمودار ہوتے، 9 ایم ایم پستول کا برسٹ چلاتے اور پلک جھپکتے ہی غائب ہو جاتے۔ہندوستانی سوشل میڈیا پر ہر قتل کے فوراً بعد نامعلوم بندوق برداروں کے گن گانا اور جشن منانا اس بات کا کھلا اشارہ تھا کہ ان کارروائیوں کو دہلی کے مقتدر حلقے اپنی خفیہ کامیابی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ہندوستانی دفاعی تجزیہ کار اور سکیورٹی ماہرین کے حلقے اس پورے خونی کھیل کا دفاع اس تھیوری کے تحت کرتے ہیں کہ ”زہر کو مارنے کے لیے زہر ہی درکار ہوتا ہے“۔ ان کا استدلال ہے کہ جب دوسرے ممالک کے قوانین اور جغرافیائی حدود ہندوستان کو اپنے مطلوبہ افراد تک پہنچنے سے روکتے ہیں، تو ریاست کو اپنی خود مختاری کے تحفظ کے لیے انڈر ورلڈ گینگسٹرز کو بطور پراکسی اور مہلک ہتھیار استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، کیونکہ اس سے بین الاقوامی دباؤ کے وقت ریاست باآسانی لاتعلقی کا اظہار کر سکتی ہے۔

یہ ایک ایسا خوفناک سراب ہے جس کا انجام ہمیشہ تباہی پر ہوتا ہے۔ اول تو یہ کہ پیشہ ور گینگسٹرز اور کرائے کے قاتلوں کا کوئی دین، ایمان یا نظریہ نہیں ہوتا۔ وہ کسی ریاستی نظریے یا انٹلی جنس کے حلف کے پابند نہیں ہوتے، بلکہ وہ محض اپنے مفاد، دولت اور جیلوں میں ملنے والی عیاشی کے غلام ہوتے ہیں۔

جب امریکی ایف بی آئی یا کینیڈین پولیس کا ڈنڈا چلتا ہے، تو یہ مجرم پہلی ہی تفتیش میں دہلی کے ہینڈلرز کے تمام فون نمبرز، واٹس ایپ چیٹس اور بینک اکاؤنٹس طشت از بام کر دیتے ہیں، جس سے پوری دنیا میں ریاست کی جگ ہنسائی ہوتی ہے اور سفارتی تنہائی مقدر بنتی ہے۔

دوسرا، سب سے تباہ کن پہلو یہ ہے کہ جب ریاست انڈر ورلڈ کے سانپوں کو دودھ پلاتی ہے، تو یہ سانپ صرف باہر کے دشمنوں کو نہیں ڈستے، بلکہ اپنے گھر کے لوگوں کو بھی نگلنا شروع کر دیتے ہیں۔

آج لارنس بشنوئی ایک ایسا فرینکنسٹائن کا عفریت بن چکا ہے جس کی لگام خود اسے پالنے والوں کے ہاتھ سے چھوٹتی جا رہی ہے۔ اگر وہ بیرونِ ملک ریاست کے کہنے پر نجر یا دیگر مخالفین کو نشانہ بناتا ہے، تو وہی گینگ اسی طاقت کے نشے میں ہندوستان کے اندر معصوم شہریوں کا جینا حرام کر رہا ہے۔

وہ مہاراشٹر میں ایک مقبول سیاسی رہنما بابا صدیقی کو بیچ چوراہے پر گولیوں سے بھون ڈالتا ہے، بالی وڈ اسٹار سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کرواتا ہے، ٹائیگر شروف پر حملہ کرواتا ہے، اور پورے بالی وڈ سے اربوں روپے کا بھتہ مانگتا ہے۔ اس سب کے باوجود، وہ گجرات کی سابرمتی جیل میں حکومت کے خصوصی حکم کے تحت ایک ایسے وی آئی پی مہمان کی طرح بیٹھا ہے جسے ہاتھ لگانا بھی قانون کے لیے گناہ بن چکا ہے!

جب ریاست گینگسٹرز کو پالیسی کا ہتھیار بنا لیتی ہے، جب جیلوں کے اندر اشونی نائک جیسے مجرموں کے ہاتھوں میں انتظامیہ کے سرکاری کاغذات آ جاتے ہیں اور جب لارنس بشنوئی کو قانون کے شکنجے سے بچانے کے لیے ریاستی احکامات جاری ہوتے ہیں، تو یہ انٹلی جنس اداروں کی فتح نہیں ہوتی۔ یہ قانون، اخلاق اور آئین کا وہ تاریخی دیوالیہ پن ہوتا ہے جس کے ملبے تلے بالآخر پوری ریاست دب جاتی ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ