واشنگٹن / تہران — امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں خطرناک اضافے کے پیش نظر امریکہ نے اسرائیل میں تعینات اپنے سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی سنگینی کا واضح اشارہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو واضح انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران مارچ کے اوائل تک اپنے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے پر اتفاق نہیں کرتا تو امریکہ ایران پر حملہ کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ ٹرمپ کا یہ بیان انتہائی سخت لہجے میں آیا ہے جس نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری مقامات پر معائنے کی اجازت دے۔ تاہم تہران اب تک اس مطالبے کو قبول کرنے سے گریزاں رہا ہے۔
ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ اگر سفارتی راستے بند ہوگئے تو مشرق وسطیٰ ایک اور بڑے فوجی تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔

