انطالیہ: ترکی کے بحیرہ روم کے ساحل پر کیکووا جزیرے کے قریب ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک ایسے قدیم بحری جہاز کا ملبہ دریافت کیا ہے جسے دنیا کا قدیم ترین معلوم بحری جہاز قرار دیا جا رہا ہے۔ محققین کے مطابق یہ جہاز تقریباً 4,400 سے 4,700 سال پرانا ہے اور ابتدائی کانسی دور سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ دریافت انطالیہ کے ضلع دیمرے کے قریب کیکووا جزیرے کے پاس تقریباً 30 میٹر یعنی 100 فٹ کی گہرائی میں ہوئی۔ جہاز کی لکڑی کا ڈھانچہ سمندر میں ختم ہو چکا ہے، لیکن سمندری تہہ پر بکھرے ہوئے 30 سے زائد مٹی کے ذخیرہ کرنے کے برتن، جنہیں امفورا کہا جاتا ہے، اور تین بڑے پتھریلے لنگر برآمد ہوئے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ تقریباً 10 میٹر لمبا تجارتی جہاز مشرقی بحیرہ روم کے ساحل سے روانہ ہو کر مغرب کی جانب سفر کر رہا تھا اور ممکنہ طور پر ٹرائے یا جزیرہ کریٹ کی جانب جا رہا تھا۔ برتنوں کے اندر زیتون کے تیل، شراب یا درختوں کی رال کے آثار ملے ہیں، جبکہ مٹی کے تجزیے سے اندازہ ہے کہ یہ برتن اردن وادی کی ورکشاپس میں بنائے گئے تھے۔
دریافت کی قیادت کرنے والے اکدنیز یونیورسٹی کے پروفیسر خاقان اونیج نے کہا کہ یہ ملبہ لیونٹ اور بحیرہ روم کے دیگر علاقوں کے درمیان قدیم سمندری تجارت کا براہِ راست ثبوت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اسے سمندری تہہ میں محفوظ ایک “ٹائم کیپسول” قرار دیا۔
ماہرین نے ان برتنوں کی بناؤٹ اور آرائش کا موازنہ مصر اور مشرق وسطیٰ سے ملنے والی 4,400 سے 4,700 سال پرانی اشیاء سے کر کے ملبے کی عمر کا تعین کیا۔ اس دریافت سے پہلے دنیا کا قدیم ترین معلوم بحری جہاز یونان کے جزیرے ڈوکوس کے قریب ملنے والا تقریباً 4,200 سال پرانا ملبہ سمجھا جاتا تھا۔
ترکی کے وزیر ثقافت و سیاحت مہمت نوری ارسوائے نے کہا کہ یہ دریافت اناطولیہ کی سمندری تاریخ اور مشرقی بحیرہ روم میں تجارتی روابط کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرے گی۔

