سربیا کے سرکاری ٹی وی چینل آر ٹی وی کے نیوز اینکر گوران ایرر کی اسکرین گریب۔
سربیا میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سرکاری ٹی وی چینل ریڈیو ٹیلی ویژن ووجوودینا نے یکطرفہ خبریں دکھانے اور حکومت سے ضروری سوال نہیں پوچھنے کے لیے ناظرین سے معافی مانگی ہے۔ صدر الیگزینڈر ووسک کی پارٹی کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ طلبہ کی قیادت میں چلنے والی بدعنوانی مخالف تحریک سے ابھرنے والی ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ نے جیت درج کی ہے۔
نئی دہلی: سربیا میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سرکاری ٹی وی چینل نے اپنے ناظرین سے معافی مانگی ہے۔ چینل نے اعتراف کیا کہ اس نے برسوں تک یکطرفہ خبریں دکھائیں، ضروری سوال نہیں پوچھے اور حکومت پر تنقید کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ یہ معافی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب صدر الیگزینڈر ووسک کی پارٹی کو انتخابات میں کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق، سرکاری میڈیا چینل ریڈیو ٹیلی ویژن ووجوودینا (آر ٹی وی) کے نیوز اینکر گوران ایرر نے اپنے پروگرام میں کہا،’برسوں تک ہم اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے۔ ہم چپ رہے، واقعات کو نظرانداز کیا، یکطرفہ خبریں دکھائیں اور ضروری سوال نہیں پوچھے۔ اس کے لیے ہم اپنے ناظرین سے معافی مانگتے ہیں۔‘
یہ بیان سربیا میں اقتدار کی تاریخی تبدیلی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اتوار کو ہوئے انتخابات میں ووسک کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ 12 برس سے کبھی وزیر اعظم یا صدر کی حیثیت سے اقتدار میں رہنے والے ووسک کے سیاسی غلبے کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
📺 “We reported events one-sidedly for years”: Serbian TV apologizes to viewers after Vučić’s party loses the election
Radio Television of Vojvodina (RTV) opened its news broadcast with footage of celebrations following the Student List’s election victory — scenes it had failed to show the previous evening.
“For years, we failed to fulfill our duty. We kept silent, turned a blind eye, reported events one-sidedly, and failed to ask the necessary questions. For that, we owe our viewers an apology,” news anchor Goran Eror said.
Following the controversy, RTV’s acting editor-in-chief Nenad Čačić resigned.
A similar incident occurred in Hungary, where state television also apologized to viewers after Viktor Orbán’s election defeat.
— NEXTA (@nexta_tv) October 27, 2026
انتخابات میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی بدعنوانی مخالف تحریک سے ابھرنے والی ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ نے کامیابی حاصل کی۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، اس تحریک کو 52.8 فیصد ووٹ ملے۔ اس بنیاد پر 250 رکنی پارلیامنٹ میں اسے تقریباً 140سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔ حکومت بنانے کے لیے یہ اکثریت کافی ہے۔
انتخابات کے دوران طلبہ نے میڈیا پر جانبداری کا الزام لگایا
سربیا میں طلبہ کی بدعنوانی مخالف تحریک گزشتہ دو برس سے جاری تھی۔ نومبر 2024 میں شہر نووی ساد کے ایک ریلوے اسٹیشن کی چھتری گرنے سے 16 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوئے۔ مظاہرین نے اس حادثے کے لیے بدعنوانی اور سرکاری لاپرواہی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
تحریک کے دوران طلبہ نے سرکاری میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ مظاہروں سے متعلق خبروں کو خاطر خواہ جگہ نہیں دے رہا اور حکومت کے حق میں رپورٹنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو ٹیلی ویژن آف سربیا (آر ٹی ایس) کے سینئر عہدیداروں اور نیوز ایڈیٹروں کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا۔
رائٹرز کے مطابق، انتخابات کی نگرانی کرنے والے ادارے کرٹا نے بتایا تھا کہ قومی سطح پر نشر ہونے والے ٹی وی چینلوں پر سیاستدانوں کو دیے گئے وقت کا تین چوتھائی حصہ حکومت کے نمائندوں کو ملا۔ ادارے کے مطابق، جب ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ کا ذکر کیا گیا تو 80 فیصد سے زیادہ وقت اس کی منفی امیج پیش کرنے میں لگایا گیا۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق، انتخابی نتائج کی رات ووسک کی جانب سے شکست تسلیم کیے جانے کے بعد سرکاری نشریاتی ادارے نے دارالحکومت بلغراد میں جشن کی خبروں کی نشریات روک دی تھیں، حالاں کہ بڑی تعداد میں لوگ رات گئے تک جیت کا جشن منا رہے تھے۔ اگلے دن آر ٹی وی نے اپنے نیوز بلیٹن کا آغاز انتخابی کامیابی کے جشن کے مناظر سے کیا۔ یہ وہی مناظر تھے جنہیں چینل نے گزشتہ رات نشر نہیں کیا تھا۔
ووسک کے حامی چینل کے دفتر میں داخل ہوئے مظاہرین
اقتدار کی تبدیلی کے بعد میڈیا کے کردار کو لے کر کشیدگی کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔ سوموار کی شام تقریباً 30 مظاہرین ووسک کے حامی نجی ٹی وی چینل ’انفارمر‘ کے نیوز روم میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے چینل کے چیف ایڈیٹر اور مالک ڈارگن کو گھیر لیا۔ کچھ مظاہرین نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اس دوران چینل کی نشریات بھی متاثر ہوئیں۔
ووسک نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس واقعے کو آزادی اظہار اور صحافت کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔
اسی دوران سربیا کی آزاد صحافیوں کی یونین نے انفارمر ٹی وی کا نشریاتی لائسنس رد کرنے کا مطالبہ کرنے کا اعلان کیا۔ یونین نے چینل پر قانون اور نشریاتی ضوابط کی مسلسل خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
سربیا میں پریس کی آزادی کی صورتحال خراب
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے 2026 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں سربیا 180 ممالک میں 104ویں مقام پر ہے۔ یہ ملک کی اب تک کی سب سے خراب رینکنگ ہے۔ یورپی یونین اور بلقان خطے میں بھی اس کی صورتحال کو سب سے خراب بتایا گیا ہے۔
سربیا میں سرکاری میڈیا کے رویے پر اٹھنے والے سوالوں کے درمیان سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی وی کی معافی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ میڈیا اداروں میں آگے کیا تبدیلیاں ہوں گی۔
ووسک کی شکست کے بعد ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ کو اب نئی حکومت تشکیل دینی ہے۔ تحریک نے بدعنوانی، سیاسی طور پر قریبی لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور اہم اداروں پر حکومت کے کنٹرول کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان اداروں میں میڈیا اور عدلیہ بھی شامل ہیں۔
اس دوران آر ٹی وی کے ایگزیکٹو چیف ایڈیٹر نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ طلبہ نے قومی سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ایس کے اعلیٰ عہدیداروں اور نیوز ایڈیٹروں سے بھی عہدے چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ اور حکومت کے ناقدین کو نشانہ بنانے والے بیانوں کو بغیر کسی سوال یا تنقید کے نشر کرنا قابل قبول نہیں ہے۔

